دوحہ/کابل (آن لائن +صباح نیوز) ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے امن معاہدہ توڑنے سے متعلق امریکی میڈیا کی خبروں کی تردید کردی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں افغان ترجما ن کا کہنا ہے کہ ابھی تک معاہدے پر عملدرآمد تسلی بخش طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ا مریکی حکام کے معاہدہ توڑنے کے دعوے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ 29 فروری کو دوحہ میں ہونے والے طالبان امریکا مذاکرات میں 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی طے پایا تھا تاہم
افغان صدر کی جانب سے طالبان قیدیوں کو رہا نہ کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا تھا جس کے بعد دونوں طرف کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔طالبان کا کہنا تھا کہ وہ افغان فوج کے خلاف لڑیں گے لیکن غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ طالبان نے واضح کیا تھا کہ اگر ہمارے قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو ہم مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔دوسری جانب افغانستان کے وسطی صوبے لوگر کی صوبائی کونسل کے ایک رکن کابل میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔کابل پولیس کی ترجمان فردوس فارامارز نے صوبائی کونسل کے رکن محمد ناصر غیرت کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں کی فی الحال شناخت نہیں کی جا سکی ہے اور نہ اس حملے کے محرکات معلوم ہوئے ہیں۔ واقعے میں غیرت کے 3 محافظ بھی مارے گئے۔ فی الحال اس واقعیکی ذمے داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔
طالبان نے امن معاہدہ توڑنے سے متعلق خبروں کی تردید کردی
القمر
