واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے ایک بار پھر فلسطینیوں کواسرائیل سے مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے بلیک میل کرنا شروع کردیا۔ امریکی حکام کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرفلسطینی اتھارٹی مذاکرات کی میز پرواپس نہ آئی تو واشنگٹن غرب اردن پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرلے گا۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل میں جاری سیاسی بحران کے باوجود واشنگٹن چند ماہ میں وادی اردن اور غرب اردن پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرلے گا۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امریکا صدی کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ اگر اسرائیل میں ایک بار پھرحکومت کی تشکیل میں ناکامی ہوئی اور کنیسٹ میں چوتھے انتخابات ہوئے، تب بھی صدر ٹرمپ اپنے منصوبے پر عمل کرکے رہیں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ کے مشرقی سرحدی علاقوں میں زرعی اراضی پر فائرنگ کرکے کسانوں کو کام کرنے سے روک دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے مشرق میں اچانک زرعی زمینوں پر فائرنگ شروع کردی اور فلسطینیوں کی فصلوں پر میزائل بھی داغے۔ ادھر المغازی پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں ایک فلسطینی تنظیم کا مرکز بھی فائرنگ سے متاثر ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب غزہ کی سرحد پر احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینی مظاہرین کو جان بوجھ کر ہلاک اور زخمی کرنے کا اسرائیلی اعتراف کے بعد حماس نے قابض فوج پر غزہ میں مکمل جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی فوج کے خلاف قانونی کاروائی ہونے چاہیے۔
مذاکرات کی آڑ میں فلسطینیوں کوبلیک میل کرنے کی امریکی کوشش
القمر
