انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں بشارالاسد کا حلیف ایران حال ہی میں ترکی اور روس کے درمیان طے پائے ادلب میں جنگ بندی کے معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ ترکی کے معروف اخبار ینی شفق کے مطابق ایرانی ملیشیا صوبہ ادلب میں موجود ترکی کی نگرانی کی چوکیوں سے چھیڑ چھاڑ کررہی ہیں۔ ینی شفق کی رپورٹ کے مطابق بشارالاسد انتظامیہ اور ایرانی ملیشیاؤں نے کئی بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جب کہ جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے 10 منٹ کے اندر ہی انہوں نے خلاف ورزیاں شروع کردی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس نے اس معاہدے کا فریق وضامن ہونے کے باوجود ان خلاف ورزیوں کے خلاف اقدام نہیں کیا۔ دوسری جانب تُرک وزیر دفاع خلوصی اکار نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی شویگوئے کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی۔ تُرک وزارت دفاع سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی فون پر گفتگو میں دونوں وزرائے دفاع نے ادلب میں پائیدار جنگ بندی کے قیام، خوں ریزی کے خاتمے جس میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے، اور بے گھر مہاجرین کی واپسی کے لیے موزوں حالات پیدا کرنے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا ۔ بات چیت میں ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی دونوں ممالک پر عائد کردہ ذمے داریوں کو پورا کرنے اور علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم پر زور دیا گیا۔ ادھر تُرک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ اگر ادلب میں اسد انتظامیہ نے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری نہ کی تو پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ اردوان نے اپنی سیاسی جماعت کے پارلیمانی گروپ سے خطاب میں کہا کہ ترکی کی ادلب میں جاری رہنے والی کارروائیاں اور گزشتہ ماہ شروع کیا گیا بہار کی ڈھال آپریشن ہماری سرحدوں کو در پیش خطرات کا قلع قمع کرنے پر ترکی کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے روسی ہم صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے بعد طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی بدولت علاقائی عوام کو ایک طویل عرصے کے بعد سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا ہے۔ اسد انتظامیہ اور اس کی حلیف ملیشیاؤں کے کس حد تک جنگ بندی پر کار بند رہنے کا معاملہ غیر یقینی ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ ابھی سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے چھوٹے موٹے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ ہم روس سے اس معاہدے پر کار بند رہنے اور لازمی تدابیر اختیار کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ شام میں ترک چوکیوں پر کسی قسم کے بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیے جانے پر زور دیتے ہوئے صدر اردوان کا کہنا تھا کہ ہم اسدی فوج اور اس کے حلیف ملیشیاؤں کی جنگ بندی والے علاقے کے اطراف میں گولہ بارود جمع کرنے کی کاروائیوں کا بہت قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم اپنے وعدے پر کار بند ہیں اور اسی چیز کی مخالف فریق سے بھی توقع رکھتے ہیں۔ شام سے متصل 911 کلو میٹر طویل سرحدوں سے دہشت گرد تنظیموں اور اسدی فوج کو دور رکھنے پر پُر عزم ہونے پر زور دیتے ہوئے تُرک صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے جنگ بندی کا معاہدہ اسد انتظامیہ یا پھر دہشت گردوں کے خوف سے نہیں کیا، بلکہ ادلب کے بحران کا تمام تر فریقوں کے لیے معقول اور قابل عمل و پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی کہیں زیادہ کوششیں صرف کرنے اور ترکی کی جدوجہد میں تعاون کرنے کی بھی اپیل کی۔
ادلب/ انقرہ: جنگ بندی سے قبل روسی اور اسدی بم باری سے نیرب قصبے میں کوئی عمارت رہایش کے قابل نہیں بچی‘ ترکی کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچائی جارہی ہے‘ صدر رجب طیب اردوان حکمراں جماعت کے پارلیمانی ارکان سے خطاب کررہے ہیں
شام ،جنگ بندی ناکام بنانے کیلئے ایران سرگرم
القمر
