واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے عراق میں فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کردیا۔ امریکی کمانڈ کے جنرل کینتھ میک کینسی نے آرمڈ فورس کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ عراق میں ائر ڈیفنس اور اینٹی بیلسٹک میزائل نظام بھی بھیجے جارہے ہیں۔ ادھر پینٹاگان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کو لاحق خطرات کے باعث فضائی دفاعی نظام جلد عراق پہنچانے کی کوشش میں ہے۔ واضح رہے کہ بغداد میں امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکی فوج پر حملوں میں اضافہ ہوگیا تھا،جس کے بعد داعش کے خلاف آپریشن معطل کردیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اعلان کیا تھا کہ نیٹو اور داعش کے خلاف فوجی اتحاد مل کر تنظیم کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے۔ امریکی وزیر دفاع نے زور دیا کہ واشنگٹن داعش کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دھمکی دی ہے کہ ایران کی جیلوں میں کسی بھی امریکی کے فوت ہونے پر بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیر حراست تمام امریکی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے، بصورت دیگر واشنگٹن اپنے کسی بھی شہری کی موت کی ذمے داری تہران حکومت پر عائد کرے گا۔ وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی جیلوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق اطلاعات تشویش کا باعث ہیںاور حکومت کو چاہیے کہ وہ قیدیوں کی حفاظت نہیں کرسکتی تو انہیں رہا کردے۔ ایرانی حکومت نے کورونا وائرس کے تناظر میں 70 ہزار قیدیوں کو رہا کیا، تاہم کئی امریکی شہریوں کو بلاجواز جیلوں میں رکھاگیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ زیر حراست امریکی شہریوں کی واپسی تک اطمینان سے نہیں بیٹھیں گے۔
امریکا کا فضائی دفاعی نظام عراق بھیجنے کا اعلان
القمر
