گلبہار کے مکین انصاف کی فراہمی اور بلڈر مافیا کیخلاف سڑک پر نکل آئے، خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جنہوں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے
غیر قانونی تعمیرات بند کرانے، متاثرین کی رہائش کا جلد بندوبست کرنے کیلئے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نیند سے بیدار ہوں، علاقہ مکینوں کا مطالبہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گلبہار نمبر2چارسو کوارٹرز میں زمین بوس ہونے والی رہائشی عمارت اور اس سے متاثرہ مکین اور اہل علاقہ کی جانب سے انصاف کی فراہمی اور بلڈر مافیا کیخلاف رضویہ کٹ نواب صدیق علی خان روڈ پر نکل آئے اور اپنا احتجاج شروع کر دیا جس کے باعث لسبیلہ سے گولیمار چورنگی جانے والی سڑک پر ٹریفک معطل ہوگئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، احتجاج میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر مختلف نعرے ایس بی سی اے اہلکاروں سے جواب طلب کرو، ذمے داروں کو کٹہرے میں لائو ، متاثرین کی رہائش کا جلد بندوبست کیا جائے، غیر قانونی تعمیرات بند کرائی جائیں، وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ سندھ نیند سے جاگیں، گورنر سندھ متاثرین کی دادرسی کیلئے پہنچیں ، معصوم قیمتی جانوں کے نقصان کا ذمے دار کون؟ بلڈر مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے تحریک تھے، احتجاج کرنے والے متاثرین اور علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ عمارت کو زمین بوس ہوئے کئی روز گزر گئے ہیں لیکن پولیس اب تک عمارت کے مالک جاوید کو گرفتار نہیں کر سکی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او رضویہ کوفوراً برطرف کیا جائے، زمین بوس ہونے والی عمارتوں کی تعمیر میں جن جن محکموں کے افسران ملوث تھے ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں اور ان جائیدادوں سے سانحہ گولیمار کے متاثرین کا نقصان پورا کیا جائے۔
زمین بوس عمارت کے متاثرین اور اہل محلہ کا احتجاج بدترین ٹریفک جام
القمر
