English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

K-4 منصوبے میں اربوں روپے کی بدعنوانی کا انکشاف تحقیقات کاآغاز

القمر

واٹر بورڈ افسران کی نااہلی سے کراچی کی لائف لائن قرار دیے جانے والے منصوبے کی تفصیلات نیب نے اسد اللہ خان سے مانگ لیں
منصوبے کیلئے فنڈز کی بندربانٹ 25 ارب روپے کا منصوبہ 100 ارب تک پہنچ گیا، منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ میں سنگین غلطیاں
کراچی(کرائم رپورٹر) واٹر بورڈ میں اربوں روپے کی بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ کراچی کی لائف لائن قرار دیے جانیوالے منصوبے کے فور میں مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، نیب نے ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان سے منصوبے کی تفصیلات طلب کر لیں۔ذرایع کا کہنا ہے کہ منصوبے سے متعلق نیب نے نیسپاک کنسلٹنٹ کی تفصیلات، منصوبے کا پی سی ون، روٹ کی تبدیلی، منصوبے میں تعینات پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تفصیلات طلب کی ہیں، تحقیقات کیلئے نیب نے کمبائن انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دے دی۔ذرایع کے مطابق واٹر بورڈ افسران کی نا اہلی سے 25 ارب کا منصوبہ 100 ارب تک پہنچ گیا ہے، سندھ حکومت حکام منصوبے پر درست معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے، منصوبے کیلئے فنڈز کی بندر بانٹ بھی سامنے آئی ہے، بھاری پراجیکٹ الانس بھی وصول کیا گیا۔ کے فور منصوبے کا روٹ بھی تبدیل کیا گیا، جس کا مقصد با اثر افراد کے زیر قبضہ زمینوں کو بچانا تھا۔چند ماہ قبل فراہمی آب کے سب سے بڑے منصوبے کے فور کی فزیبلٹی رپورٹ کے معاملے پر سندھ حکومت نے بھی تحقیقات کیلئے 3 رکنی کمیٹی بنائی تھی، انکشاف ہوا تھا کہ منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ میں سنگین غلطیاں کی گئی ہیں، کینجھر جھیل سے کراچی 121 کلو میٹر روٹ میں 2 اہم نہری ذخائر کو شامل نہیں کیا گیا تھا، سابقہ کنسلٹنٹ کمپنی نے 2 اہم نہری ذخائر ہالیجی اور ہاڈیروہر کو فزیبلٹی رپورٹ میں شامل نہیں کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے