English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغان طالبان کا اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان

القمر

ملا ہیبت اللہ افغانستان کے قانونی سربراہ قرار، اسلامی حکومت قائم کرنے کا اعلان
غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کر لی جائے گی
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان کا اپنی حکومت قائم کرنے اور ملک کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان، ملا ہیبت اللہ افغانستان کے قانونی سربراہ قرار، غیر ملکی قابض فوج کے انخلا کے بعد ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ ملک کے قانونی سربراہ ہیں اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کر لی جائے گی۔وائس آف امریکا کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کرنے سے ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آتا جو افغانستان کے قانونی حکمراں ہیں۔ ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ غیر ملکی قابض فوج کے انخلا کے بعد ملک میں ”اسلامی حکومت” قائم کریں۔ملا ہیبت اللہ کی موجودگی میں افغانستان میں کوئی اور ”قانونی حکمراں” نہیں بن سکتا۔ایک قانونی امیر کے حکم پر غیر ملکی حکمرانی کے خلاف 19 برس تک جہاد جاری رکھا گیا۔ قبضہ ختم کرنے کے سمجھوتے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اصول باقی نہیں رہا۔ طالبان نے تازہ بیان میں وضاحت کی ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے صرف بین الاقوامی فوج کا انخلا کافی نہیں ہوگا۔ بیان کے مطابق سمجھوتے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ بدعنوان افغان عناصر کو ساتھ رکھا جائے جنھوں نے غیرملکی حملہ آوروں کا ساتھ دیا، تاکہ وہ آئندہ حکومت کا حصہ بنیں۔افغان طالبان نے مزید کہا ہے کہ جب تک قبضے کی جڑوں کو مکمل طور پر اکھاڑ نہیں پھینکا جاتا اور اسلامی حکومت تشکیل نہیں دی جاتی، تب تک مجاہدین اپنا مسلح جہاد جاری رکھیں گے اور اسلامی شریعت پر عمل درآمد کی کوششیں تیز کریں گے۔ افغان طالبان کے اس بیان کے بعد امریکا اور روس نے ابتدائی ردعمل میں کہا ہے کہ افغانستان میں اسلامی امارات کے قیام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے