غیر ملکیوں کی آمدورفت پر پابندی کے باعث کاروباری سرگرمیاں ماند پڑگئیں
ایشیائی کمپنیوں کے نقصان کا تخمینہ تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
یورپی فضائی کمپنی فلائی بی کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، سینکڑوں ملازمین فارغ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کورونا وائرس کی وجہ سے متعدد ممالک کی سرحدیں بند ہونے اور وہاں پر غیر ملکیوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد ہونے کے سبب سب سے نقصان ہوا بازی کی عالمی صنعت کو ہوا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں میں سکڑائو کی وجہ سے ایشیاء کی کمپنیوں کا نقصان کا تخمینہ تقریباً 30ارب ڈالر ہے۔ مسافروں کی تعداد میں شدید کمی کے پیش نظر متعدد فضائی کمپنیوں نے نہ صرف اپنے فضائی بیڑوں کا بڑا حصہ گرائونڈ کر دیا ہے بلکہ اپنے اسٹاف کو بھی جبری چھٹیوں پر بھیج دیا ہے۔خراب کاروباری حالات کی بناء پر کئی فضائی کمپنیاں بندش کا بھی شکار ہیں۔ یورپی فضائی کمپنی فلائی بی کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ ایشیا کی 12کمپنیاں خراب معاشی حالات کی بناء پر گزشتہ ایک برس میں اپنا آپریشن پہلے ہی بند کر چکی ہیں۔ اخراجات پر قابو پانے اور سستے ٹکٹ کی فراہمی کیلئے ہانگ کانگ ایئر لائنز نے پرواز کے دوران کھانے کی فراہمی بند کر دی ہے جس کے بعد ہانگ کانگ ایئر لائنز نے اپنے 170ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ ہانگ کانگ کی ایک اور معروف فضائی کمپنی کیتھے پیسفک نے اپنا آدھا فلیٹ یعنی 120طیاروں کو گرائونڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تین چوتھائی پروازوں کو معطل کر دیا ہے۔ سنگارپور ایئر لائنز نے بزنس نہ ہونے اور اخراجات بڑھنے کی وجہ سے تنخواہوں میں کٹوتی کا فارمولا اپنایا ہے۔
کوروناوائرس،خوفزدہ ممالک نے اپنے سرحدیں بند کردیں
القمر
