English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

میر شکیل الرحمن اپنی بیگناہی کا ثبوت دیں،فردوس عاشق

القمر

قانون کی نظر میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہجنگ جیو گروپ حکومت کیخلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔میر شکیل الرحمن اپنی بے گناہی کا ثابت کریں۔قانون کی نظر میں کوئی مقدس گائے نہیں۔ نیب اگر کسی کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کرتی ہے تو قانونی سقم کے باعث لوگ گنگا جمنا نہا کر باہر آجاتے ہیں،حکومت پر الزام تراشی کی بجائے ثبوت عدالتوں میں پیش کیے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ صحافت کے ساتھ لڑائی کسی حکومت کو راس نہیں آتی ،حکومت صحافت اور صحافی برادری کے ساتھ تصادم نہیں چاہتی ۔ انہوںنے کہاکہ ہم ایک دوسرے سے موجود گلے شکوے دور کرنے کے لیے لائحہ عمل بنانے جا رہے ہیں۔ میڈیا کے تحفظات صرف حکومت سے نہیں ، میڈیا کارکنان کے تحفظات میڈیا مالکان سے بھی ہیں ۔ وزیراعظم کا احتساب کا نعرہ ہے اور وہ کرپشن فری پاکستان چاہتے ہیں، پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی طرح ہم بھی نیب سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ قانون کا یکساں اطلاق کریگا،میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا،گرفتاری کے واقعے کو حکومت یا وزیراعظم کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے،موجودہ حکومت صحافت کی آزادی پر مکمل یقین رکھتی ہے،کرونا سے عوام کو آگاہی دینے کے کیے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے،جو متفقہ روڈ میپ بنے گا اس سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نیب کے اقدامات سے ایسی بو نہیں آنی چاہیے کہ کمزور کو پکڑ لیا جائے اور طاقتور کو چھوڑ دیا جائے، ہم نیب کو ایک طاقتور ادارے کے طور پر آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عمران خان کی قیادت میں آزاد ادارے غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنا کام کر رہے ہیں، گزشتہ روز کے واقعے میں نیب کے کردار کو حکومت کے ساتھ نتھی کرنا اور یہ تاثر دینا کہ حکومت نے صحافتی برادری کو قتل کر دیا ہے یہ صحافتی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کسی ادارے کے مالک کی کاروباری اور مالی معاملات میں ہونے والی انکوائری یا گرفتاری کو میڈیا کے ساتھ جوڑنا اور اسے حکومت کے خلاف رائے دینے کے لیے جوڑنا بھی صحافتی اقدار کی نفی ہے، اس عمل کو ایک آزاد اور خود مختار ادارہ جو کر رہا ہے اسے حکومت کی خواہش کے تابع کرنے کا بیان دینا بھی ناانصافی ہے۔ انہوںنے کہاکہ مجھے یقین کامل ہے کہ اگر نیب میر شکیل الرحمان صاحب کو ایسے الزامات کے تحت گرفتار کرتی ہے جس کے تحت انھوں نے اس وقت کے وزیراعظم سے ایسے پلاٹ لیے اور ان پلاٹس سے وزیراعلیٰ سے کوئی فیور لی اور اسے کسی ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا تو الزام لگتے رہتے ہیں، بہت سارے سیاستدان اور دیگر افراد بھی ان الزامات کا سامنا کرتے رہتے ہیں، جب دونوں فریق اپنا مؤقف عدالت میں لاتے ہیں تو عدالت حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ نیب نے جن حقائق کی بنیاد پر میر شکیل الرحمان کا ریمانڈ لیا ہے، ہم امید رکھتے ہیں کہ نیب ٹھوس ثبوت سامنے لائے گا تاکہ نیب کے مؤقف کو آئین اور قانون کی بالادستی حاصل ہو۔جنو اور جنگ کی آراء کا ہمیشہ سے احترام کیا ہے کیونکہ جیو اور جنگ دوسروں کے لیے ٹرینڈ سیٹ کرتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ نیب حکومتی نہیں آزاد ادارہ ہے، میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے ساتھ جڑے ثبوت اور حقائق عدالتوں میں پیش کرنا ان کی ذمہ داری ہے جبکہ جنگ اور جیو گروپ کے حکام اور ادارے سے وابستہ صحافیوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا عدالت میں دفاع کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے