English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تیل کے تنازع پر روس اور سعودی عرب میں گرما گرمی بر قرار

القمر

 

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی پر روس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں اس تبدیلی کی ذمے داری ماسکو حکومت نے سعودی عرب پر عائد کی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں یہ اضافہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے تناظر میں مارچ کے آغاز پر سعودی عرب اور روس تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق نہیں کر سکے تھے۔ کورونا وائرس کی وبا کے بعد عالمی سطح پر تیل کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس وقت عالمی منڈیوں میں تیل 24 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ سعودی عرب نے تیل کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے روسی صدر کے بیان کی تردید کردی۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس سمجھوتے سے سعودی عرب کے نکلنے کی بات صحیح نہیں ہے، بلکہ اوپیک پلس سمجھوتے سے نکل جانے والا ملک روس ہے۔ سعودی وزیر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی پر روسی صدر سے منسوب بیان حقیقت سے عاری ہے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سبب سعودی عرب کا اوپیک پلس کے سمجھوتے سے نکل جانا ہے اور مملکت کروڈ آئل پیدا کرنے والوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ بیان میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ جملہ طور پر من گھڑت ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ سعودی حکومتکے مطابق 22 ممالک نے روس کو تیل میں کمی کے معاہدے میں توسیع پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ سعودی وزیر نے کہا کہ روس تیل کی پیداوار میں کمی اور معاہدے میں توسیع پر آمادہ نہیں ہوا، تاہم توقع ہے کہ روس اوپیک کے آیندہ ہنگامی اجلاس میں درست موقف اختیار کرے گا۔ سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کی دعوت سعودی عرب نے دی ہے، جس کا مقصد منصفانہ سمجھوتے تک پہنچنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے