ٹنڈو آدم (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق رکن اسمبلی محمد حسین محنتی نے کہاہے کورونا وائرس کی صورت حال نے پوری دنیا کوبحران سے دوچار کردیا ہے،یہ انسانوں کے لیے اللہ کی طرف سے وارننگ کی گھنٹی اورآزمائش ہے۔ چینی و آٹاچور اورحفاظتی ماسک میں بھی کرپشن کے جوہردکھانے والی قیادت سے راشن کی منصفانہ تقسیم کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔ایسی قیادت کورونا کی طرح ملک وقوم پرعذاب کی طرح ہے ،قدرتی آفت سے لڑنا نہیں بلکہ بچنا ہے اوراللہ سے رجوع کرکے توبہ استغفارکے ذریعے اس سے نجات حاصل کرنا ہے۔ابتک سندھ سمیت ملک بھر میں 50کروڑ کی مالیت کا راشن ودیگر سامان تقسیم کرچکے ہیں مگر حکومتی امداد کے لیے عوام ابھی تک منتظر ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹنڈوآدم پریس کلب میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں محمد رفیق منصوری ، عبدالعزیز غوری ایڈووکیٹ اور مشتاق احمد عادل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے مزید کہا کوروناوائرس کے خاتمے اوراپنی جان ہتھیلی پررکھ کر مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرزکی تنخواہ میں کٹوتی قابل مذمت ہے جبکہ انکو ماسک ،کٹس و حفاظتی سامان کی فراہمی کے بجائے پولیس کے ڈنڈے اورتوہین آمیزرویہ حکومت کے لیے باعث شرم ہے۔انہوں کہاکہ جمعہ کی نماز پرپابندی اورمساجد کو تالے لگاکر بندکرنے کا عمل افسوس ناک ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہ حفاظتی ماسک میں کرپشن کی تحقیقات اورچینی و آٹاچورقیادت کو قوم قانون کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتی ہے جوکہ جمہوریت، قانون اورانصاف کے دعویدارحکمرانوں کے لیے چیلنج ہے۔قبل ازیں صوبائی امیرنے ٹنڈوآدم،سنجھورو اورشہدادپورمیں الخدمت سینٹرکا دورہ، ذمے داران والخدمت کے رضاکاروں کے اجلاس سے خطاب کیا اورمستحقین میں راشن بھی تقسیم کیا، اس موقعی پرصوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا،ضلعی امیررفیق منصوری،بزرگ رہنما و چیئرمین سیاسی کمیٹی جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ عبدالعزیز غوری ودیگربھی موجود تھے۔
