برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی ممالک نے نئے متاثرین کی یومیہ تعداد میں بتدریج کمی کے باعث محتاط انداز میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا شروع کردی ہے۔ آسٹریا اور جمہوریہ چیک میں چھوٹی دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے، جب کہ ڈنمارک میں اسکول 15 اپریل کو دوبارہ کھل جائیں گے۔ جرمنی کے وزیر صحت جینز سپاہن نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایسٹر کے تہوار یعنی 12 اپریل کے بعد بھی اعداد و شمار کا یہ مثبت رجحان جاری رہا، تو حالات بتدریج معمول پر آ سکتے ہیں۔ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں بھی امید کی وجوہات موجود ہیں۔ اٹلی میں اطلاعات ہیں کہ 4 مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی شروع ہوگی اور جمعرات کی صبح اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ ممکنہ طور پر ملک بالآخر وائرس کے بدترین دور سے گزر رہا ہے، لیکن ایسٹر کی چھٹی کے حوالے سے تشویش موجود ہے، کیوں کہ اس تہوار پر لوگ عموماً اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے جاتے ہیں۔ تاہم پرتگال نے جمعرات کی رات سے لوگوں کے سرکاری دستاویزات کے بغیر اپنے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کر دی ہے، جب کہ گشت پر مامور پولیس ان بندشوں پر عمل یقینی بنائے گی۔ یاد رہے کہ چین نے بھی کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد اس وبا کے پہلے مرکز ووہان شہر کو بھی مکمل طور پر کھول دیا ہے۔ ووہان 76 روز سے لاک ڈاؤن میں تھا، تاہم اب شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکا بھی پابندیوں میں نرمی پر غور کر رہا ہے۔ امریکا میں بیماریوں کی روک تھام سے متعلق ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق جن افراد میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں وہ اپنے کاموں پر جا سکتے ہیں۔
