English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کورونا وائرس عالمی سطح پرشدید ترین خطرہ بن گیا،احتیاط ہی علاج ہے،نعیم صدیقی

Naeem Siddiqi
نعیم صدیقی

31 دسمبر 2019 کوعالمی ادارہ صحت WHOکو چین میں نمونیا کے کیسز کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ووہان شہرمیں کسی نامعلوم وجہ کے باعث سامنے آرہے تھے جو بعد میں نیا نوول کورونا وائرس ثابت ہوا۔اب اس وبا کو 3 ماہ ہوگئے ہیں اور سائنسدان تاحال اس نوول کورونا وائرس کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے ہیں۔ اب تک کی حقیقت یہ ہے کہ یہ وائرس جتنا بھی خوفناک ہو مگر بدترین اور دنیا تباہ کرنے والا وائرس نہیں ہے۔اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 خسرے جتنی متعدی نہیں اور یہ خطرناک ضرور ہے مگر ایبولا کی طرح کسی متاثرہ فرد ی جان نہیں لے سکتی علاج ممکن ہے۔مگر ایک چیز جو اس سارس کوو 2 وائرس کی انتہائی خطرناک صلاحیت کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتی ہے وہ اس کا نیاپن ہے۔ گزشتہ سال کے اختتام پرجب یہ وائرس کسی جانور سے چھلانگ لگا کر انسانوں میں آیا تو ہم میں سے کسی کے اندر اس کے خلاف مدافعت نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے پراسرار نمونیا جیسے مرض کے کیسز دسمبر کے آخر میں رپورٹ ہوئے تھے جن میں سانس لینے میں دشواری سامنے آئی تھی پھر یہ ہوا کہ یہ بہت تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔ 3 ماہ کے عرصہ میں یہ وائرس15 لاکھ افراد کو متاثر اور 80 ہزار کے قریب افراد کی جانیں لے چکا ہے اور اموات کا سلسلہ جاری ہے.

دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈائون کی وجہ سے معمولات زندگی رک گئے ہیں، عالمی معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ دنیا بھر میں گھروں میں قید اربوںلوگ زندگی سے اکتا گئے ہیں۔ قابل غور بات ہے کہ یہ وائرس آخر اتنا خطرناک کیوں؟کورونا وائرسز اس دنیا کے لیے نئے نہیں بلکہ اکثر ان سے سانس کے امراض لاحق ہوتے ہیں جو موسمی نزلہ زکام سے لے کر جان لیوا بیماریوں جیسے سارس، برڈ فلو اور ڈینگی جیسی وبائوں پر مشتمل ہیں۔ عالمی وبا قرار دیا جانیوالا سارس کوو 2 پہلا کورونا وائرس ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وائرس بالکل نیاتھا جس کا نشانہ انسان بنے اور سب خوفزدہ ہوگئے۔ دنیا میں جو بھی متعدی بیماریاں ہیں ان کو روکنے کا کوئی نہ کوئی ذریعہ ہوتا ہے۔انسان کے اندر ان کو روکنے کیلئے قوت مدافعت موجود ہوتی ہے لیکن کورونا وائرس کے مقابلے میں انسان کی قوت مدافعت کسی کام نہیں آئی۔اصل مشکل یہ ہے کہ اس بیماری میں فوری طور پر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ بیماری کی نوعیت کیا ہے؟ اب تک کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات کم و پیش پانچ دن میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں لیکن اس میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اسی عرصے میں دیگر لوگوں تک بھی یہ وائرس منتقل ہو جاتا ہے۔یوں سمجھیں کہ اس وائرس کو ایک فرد سے دوسرے تک پہنچنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا بھر میں تیز رفتاری سےپھیل رہا  ہے۔

اگر ہم دیگر وائرس کے ساتھ اس کا موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ چین میں ماہرین نے اس وائرس کے پھیلنے کے کچھ دن بعد ہی اس کے ڈی این اے اسٹرکچر کا سیکونس تیار کردیا تھا جو کہ 2002 کے سارس کورونا وائرس سے ملتا جلتا ہے، اسی بنا پر اس کا نام سارس کوو 2 رکھا گیا ہے۔سارس وائرس کی شدت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہر دس میں سے ایک مریض دم توڑ جاتا تھا تاہم اس کا مریض بیمار ہونے سے قبل وائرس آگے منتقل نہیں کر سکتا تھا اس دوران اکثر مریض علاج کیلئے ہسپتال چلے جاتے تھے۔اگرچہ اس وائرس پرکم مدت میں قابو پا لیا گیا لیکن تحقیقات کا عمل روک دیا گیا تھا۔آج ہم دیکھتے ہیںکہ وہی وائر س ایک نئی شکل میں زیادہ طاقتور ہوکر واپس لوٹ آیا ہے جبکہ اس کی روک تھام کے لیے محفوظ اور موثر ویکسین پر کام تو ہورہا ہے مگر دستیابی کا امکان کم و بیش ایک سال سے قبل ممکن نہیں ہے۔

Panic situation
     
Victims of CV
   

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس نئے کورونا وائرس کا حجم ہماری آنکھوں کی ایک پلک کے ایک ہزار ویں حصے سے بھی کم ہے۔ یہ ایک کانٹے دار پروٹین شیل  ہے جو انسانی جسم سے باہر مردہ ہوتا ہے لیکن جیسے ہی سانس کے ذریعہ جسم میں پہنچتا ہے تو یہ خلیات پر قابض ہوکر اپنے جیسے لاکھوں وائرس پیدا کردیتا ہے۔ کورونا وائرس جس انداز سے کام کرتا ہے وہ انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے، یہ انسانوں میں داخل ہوتے ہی پھیل جاتا ہے اور جب تک معلوم ہوتا ہے اس کا پھیلائو ہماری گرفت سے نکل چکا ہوتا ہے بلکہ اس میں بہت زیادہ نمو ہو چکی ہوتی ہے ساتھ ہی یہ وائرس دوسرے انسانوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔یعنی ایک مریض سینکنعیم صدیقیڑوں صحت مند انسانوں تک اس کو منتقل کردیتا ہے ، چھینک یا کھانسی کے دوران منہ سےجو ذرات نکلتے ہیں وہ اس کے پھیلائو کا باعث بنتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ اس بیماری سے محفوظ رہنے کیلئے لازم ہے کہ سماجی فاصلے رکھے جائیں۔

سماجی فاصلےاور ہر قسم کی احتیاط اس وائرس کے خلاف سادہ اور موثر طریقہ ہے۔ چین کی مثال سامنے رکھی جائے وہاں جیسے ہی بات سمجھ میں آگئی تو سفری پابندیوں سمیت کروڑوں افراد کو لاک ڈائون کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں سماجی تعلقات میں واضع طور پر کمی دیکھنے میں آئی۔اس طرح چین نے اس بیماری کو بڑی تیزی کے ساتھ قابو کر لیا اور اس کے پھیلائو کو روکنے میں کامیاب ہو گئے۔آج ووہان کو کھول دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجودسخت احتیاط اور فیس ماسک کی تاکید کی جا رہی ہے۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی جسم سے باہر یا سورج کی روشنی اور ہوا میں نمی کے نتیجے میں یہ وائرس مردہ ہوجاتا ہے تاہم ایک اورتحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مخصوص ماحول میں اس وائرس کے کچھ ذراتکسی بھی دھات یا پلا سٹک پر دو سے تین روزدن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ بات جان لینی چاہئے کہ ابھی تک اس وائرس کی ویکسین یا کوئی موثر دوا سامنے نہیں آسکی ہے لہذاکورونا وائرس جیسے موذی مرض سے محفوظ رہنے کیلئے لازم ہے کہ اس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے سماجی فاصلوں کے ساتھ ساتھ گھر تک محدود راور ہر قسم کی احتیاط پر مکمل سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے اسی میں ہماری بہتری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے