نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اچانک لگائے گئے 21 روزہ لاک ڈاؤن سے جہاں ملک بھر میں لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہیں لاکھوں بچوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہوگئی ہے۔ معمولات زندگی بند ہونے کے سبب ہزاروں بچے خالی پیٹ سونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بھارت میں بچوں کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ (47 کروڑ 20 لاکھ) ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن نے غریب خاندانوں کے تقریباً 4 کروڑ بچوں کو متاثر کیا ہے، جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو دیہی علاقوں کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ بھی جو شہروں میں کچرا چننے کا کام کرتے ہیں یا سڑکوں پر لگے اشاروں پر غبارے، قلم اور دیگر چیزیں فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ مزدور اور سڑکوں پر رہنے والے بچوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم چیتنا کے ڈائریکٹر سنجے گپتا کے مطابق سب سے زیاد متاثر وہ بے گھر بچے ہیں جو شہروں میں سڑکوں پر، پلوں کے نیچے یا پھر تنگ گلی کوچوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہر ایک کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے، لیکن سڑکوں پر اور گلیوں میں رہنے والے بچوں کا کیا بنے گا۔ ایک اندازے کے مطابق صرف دہلی میں 70 ہزار بچے سڑکوں اور گلیوں میں رہتے ہیں جن کے گھر بار نہیں ہیں۔ سنجے گپتا کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بچے بہت ہی آزاد اور خودمختار ہیں۔ وہ اپنے جینے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ انہیں امداد کی ضرورت پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تنظیم کے لیے ایسے بچوں تک پہنچنا آسان نہیں ہے، تاوقتیکہ انہیں کرفیو پاس یا خصوصی اجازت نامے نہیں دیے جاتے۔ جن کا حصول نہایت مشکل ہے کیوں کہ چیتنا جیسے مخیر اداروں کو ضروری خدمات میں شمار ہی نہیں کیا جاتا۔ تنظیم کے سربراہ کے مطابق بچوں میں خوف اور بے یقینی گھر کر چکی ہے اور وہ موبائل فون میں مختلف گروپوں کے ذریعے وڈیوز میں اپنی پریشانی بیان کرتے ہیں، جن میں والدین کی ملازمت ختم ہونے یا کرایہ ادا کرنے اور راشن کی خریداری اہم ہیں۔دوسری جانب دہلی میں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے والے کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے دارالحکومت میں سڑکوں پر رہنے والے بچوں اور کمزور خاندانوں میں کھانے تقسیم کر رہے ہیں۔ دوسرے شہروں میں بھی مقامی حکومتیں اور مخیر ادارے بچوں اور بے گھر لوگوں میں کھانے تقسیم کر رہے ہیں، لیکن مسائل بہت زیادہ ہیں۔
