English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا میں 20 ہزار اموات ،دنیا بھر میں ہلاکتیں ایک لاکھ 8 ہزار سے متجاوز۔ترکی کے 31 شہروں میں کرفیو

القمر

واشنگٹن /لندن/ میڈرڈ/روم/پیرس/برلن/ انقرہ/ تہران /نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 8ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ مزید 64ہزار711نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ، اس طرح متاثرہ افراد کی تعداد بھی 17لاکھ63ہزار سے زائدہوگئی ہے۔ امریکا میں ہلاکتیں اٹلی سے بھی زیادہ ہیں جن کی مجموعی تعداد 20ہزار223تک پہنچی ہے ۔ہفتے کو امریکا ، فرانس اور برطانیہ میں سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ امریکا میں 1476، فرانس میں635 اور برطانیہ میں 917افراد ایک روز میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ اٹلی میں 619، اسپین میں 272، بیلجیم میں327، سوئیڈن میں 34، ایران میں 125، ترکی میں 95، بھارت میں 39،اسرائیل میں6اورچین میں3افراد ہلاک ہوئے۔ مجموعی ہلاکتوں کے اعتبار سے امریکا اب بھی سب سے آگے ہیں جہاں اب تک 21ہزار 86افراد ہلاک ہوئے ، اس کے بعد اٹلی میں 19ہزار 486، اسپین میں 16ہزار653، فرانس میں13ہزار 832 ، برطانیہ میں 9ہزار 875ہلاک ہوئے۔عالمی سطح پر کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے
والے افراد کی تعداد3لاکھ 97ہزار46ہوگئی ہے ۔ادھر ترکی کے کے حکام نے 31 صوبوں میں کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے 2 دن کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے۔ترک نشریاتی دارے کے مطابق ترکی جہاں پر ترکی میں کورونا وائرس سے جانی نقصان گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید95 اموات سے 1 ہزار 6 جبکہ مصدقہ مریضوں کی تعداد 47 ہزار 29 تک جا پہنچی ہے مزید اس وائرس کو روکنے کے لیے حکومت نے 2دنوںکے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے۔وزیر داخلہ سیلمان سوئیلو نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یا نارمل کرفیو نہیں ہے بلکہ عوام کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر ہیں جن پر اتوار کی رات 12بجے عمل درآمد ختم کردیا جائے گا۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ہم کچھ نہ کرتے تو ہلاکتیں 22 لاکھ تک جا سکتی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت کی تعریفیں کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جارحانہ حکمت عملی کے باعث لا تعداد جانیں بچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگیاں بچانے کے لیے پیشرفت دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدرکا کہنا تھا کہ امریکا میں ہلاکتیں ایک لاکھ سے کم ہی رہے گی۔امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاوَ کو روکنے کے لیے ایپل اور گوگل کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ کورونا کے مریض کا پتا لگانے کے لیے ایپل اور گوگل ٹیکنالوجی سے مدد فراہم کریں گے جبکہ دونوں کمپنیاں کورونا کے مریض کی لوکیشن بھی بتائیں گی کہ کہیں یہ لوگوں کو متاثر تو نہیں کر رہا۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ لاک ڈائون میں نرمی بہت ہی خطرناک ثابت ہو گی۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈرس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاک ڈاون میں نرمی سے اموات میں تیزی آ سکتی ہے۔ کئی ملکوں میں معاشی مشکلات ہیں لیکن تمام ممالک کو لاک ڈاون میں نرمی سے متعلق بہت ہی احتیاط کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون میں نرمی سے متعلق حکمت عملی بنانے کے لیے کچھ ملکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاہم کئی ممالک خود ہی شہریوں کے گھروں پر رہنے کی پابندی ہٹانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ڈاکٹر ٹیڈرس نے کہا کہ یورپی ممالک میں عالمی وبا کے کیسز میں کچھ کمی آئی ہے تاہم افریقا سمیت دوسرے ممالک میں کورونا کیسز بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔مزید برآںامریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس کے سبب مرنے والے 8ہزار افراد میں 100 سے زائد پاکستانی بھی شامل ہیں۔اس حوالے سے پاکستانی قونصل جنرل عائشہ علی نے بتایا کہ اسپتالوں، جنازہ گاہوں اور اہلِ خانہ سے اکٹھی کی گئی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک اور نیو جرسی کے علاقوں میں 100سے زاید پاکستانی اس مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہوئے۔دوسری جانب پاکستانی سفارتخانے کی ترجمان زوبیہ مسعود کا کہنا تھا کہ دیگر ریاستوں میں بھی کچھ پاکستانیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس حوالے سے معلومات اکٹھی کررہے ہیں کہ اس وبا نے پاکستانی امریکی کمیونٹی کو کس طرح متاثر کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے