لاہور (جسارت نیوز ) لاک ڈائون میں پی سی بی نے کھلاڑیوں کے لیے فٹنس ٹیسٹ میں ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ 20 اور 21 اپریل کو وڈیو لنک کے ذریعے لیے جائیں گے، فٹنس ٹیسٹ میں کھلاڑیوں کو ایک منٹ میں 60 پش اپ اور 50 سٹ اپ لگانے ہوں گے۔ ٹیسٹ کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ آن لائن فٹنس ٹیسٹ تمام کھلاڑیوں کے لیے چیلنج ہوگا، لاک ڈائون میں بھی فٹنس کا خیال رکھنا لازمی ہے۔35 سالہ اظہر علی نے ویڈیو کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کی بحالی کی خبریں سن رہے ہیں، اس سے بہت فائدہ ہوگا، پی سی بی نے آن لائن فٹنس ٹیسٹ کا اعلان کیا ہے، یہ تمام کھلاڑیوں کے لیے چیلنج ہوگا۔ ٹرینر یاسر ملک اور ہیڈ کوچ مصباح الحق فٹنس ٹیسٹ لیں گے۔ان کا کہنا تھا طویل وقفے کے بعد کرکٹ میں واپسی مشکل ہوگی، ہم اپنے طور پر کوشش کر رہے ہیں کہ خود کو فٹ اور متحرک رکھ سکیں، کوشش کریں گے کچھ پریکٹس میچز ہو جائیں، ہمیں معلوم نہیں یہ وقفہ کتنا طویل ہوگے۔لاک ڈائون میں جو لوگ بلا وجہ باہر نکل رہے ہیں ان پر افسوس ہے، صرف دوسروں نہیں اپنے آپ سے بھی بچنے کی ضرورت ہے، بلاوجہ باہر نکلنے کی بجائے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزاریں۔دریں اثناء گھروں میں سہولیات ناکافی ہیں،آن لائن فٹنس ٹیسٹ کیسے دیں؟ کرکٹرز مشکل میں پڑ گئے جب کہ بیشتر کو فیل ہونے کا خدشہ ستانے لگا۔پی سی بی نے لاک ڈئون میں بھی کرکٹرز کو متحرک رکھنے کیلیے 20 اور 21 اپریل کو ویڈیو کال کے ذریعے فٹنس ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ پلیئرز کے ٹیسٹ ٹرینر یاسر ملک لیں گے، صوبائی ٹیموں میں شامل کھلاڑیوں کی فٹنس ایسوسی ایشنز کے ٹرینرزجانچیں گے۔ذرائع کے مطابق بیشتر کرکٹرز کے پاس گھر میں ٹریننگ کی انتہائی ضروری سہولیات میسر نہیں، کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کیلیے ذہنی طور پر تیار نہ ہونے کی وجہ سے کئی کرکٹرز نے استطاعت رکھنے کے باوجود ٹریڈ مل یا ٹریننگ کیلیے درکار اس نوعیت کا دوسرا سامان خریدنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی، بیشتر نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں موجود سہولیات پر انحصار کرتے رہے ہیں۔چیف سلیکٹر و ہیڈکوچ مصباح الحق اور ٹرینر یاسر ملک کی جانب سے پیغام ملنے کے بعد سے کھلاڑی فٹنس کے مطلوبہ معیار پر پورا اترنے کی ہرممکن کوشش تو کر رہے ہیں لیکن فیل ہونے کے خدشات سے بھی دوچار ہیں، اس صورتحال میں ٹیسٹ ملتوی کیے جانے کی اطلاعات بھی گردش میں ہیں۔دوسری جانب پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی نے کہاکہ آن لائن ٹیسٹ 20 اور 21 اپریل کو ہی ہوں گے، شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی۔یاد رہے کہ بورڈ نے فٹنس کے معیار پر پورا نہ اترنے والے کرکٹرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی پالیسی وضع کر رکھی ہے۔دوسری طرف سابق قومی کپتان راشد لطیف کو کورونا وائرس کے باعث گھر بیٹھے کرکٹرز کی فٹنس پر تشویش لاحق ہو گئی ہے جن کا کہنا ہے کہ 3ماہ کا لاک ڈاؤن تمام کرکٹرز کو شرجیل خان جیسا بنا کر رکھ دے گا۔ 51 سالہ سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے اپنی یوٹیوب ویڈیو میں واضح کیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کم و بیش سارا ملک لاک ڈاؤن کا شکار ہے اور دنیا بھر میں کھیل کی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں لہٰذا اس وقفے کے دوران کھلاڑیوں کی فٹنس پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔پی سی بی نے مناسب انداز سے توجہ نہ دی تو کھیلوں کی سرگرمیوں سے محروم تمام کرکٹرز کی فٹنس کا معیار دو سے 3ماہ کے لاک ڈاؤن میں اوپنر شرجیل خان جیسا ہو جائے گا۔ راشد لطیف نے سوال اٹھایا کہ پی ایس ایل 2020ء کی عمدہ کارکردگی کے مالک پلیئرز چند ماہ کے بعد کیا اپنی فارم برقرار رکھ سکیں گے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ پی سی بی کا میڈیکل پینل زیر معاہدہ کرکٹرز کو لاک ڈاؤن کے دوران ویڈیو لنک پر تواتر کے ساتھ بریف کرے کہ وہ اپنی فٹنس کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں جب کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق کھلاڑیوں کے ساتھ سیشنز کرتے رہیں تاکہ ان کی فٹنس برقراررکھی جاسکے۔
