
حکمرانوں کی نااہلیوں اور بد ترین طرز حکمرانی کے باعث پاکستان میں انارکی بڑھ رہی ہے، کورونا وائرس نے پاکستان کے فریب کار حکمرانوں کی چالاکیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے ان کی عوام دشمن حرکات اور بدنام زمانہ بادشاہوں کے انداز میں فیصلے کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کو ملک کے مفادات اور عوام کی زندگی سے رتی برابر بھی ہمدردی یا دلچسپی نہیں ہے۔ادھار مانگی ہوئی دانش اور ان کے کردار نے ان کے اصل اور منحوس چہرے خوفناک نتائج کے بعد واضع کر دیے ہیں۔سازش کے ذریعے اقتدار میں آنے والے یہ گھس بیٹھیے اور لے پالک حکمران فوری طور پر اقتدار سے بیدخل نہ کیے گئے تو یہ تباہ حال ملکی معیشت کے بعد عوام کی زندگیوں کو بھی کورونا وائرس جیسی انتہائی خطرناک بیماری کے حوالے کر دیں گے اور خود بے بس و مجبور عوام کی موت سے لطف اندوز ہوں گے۔اس وزیراعظم کی سوچ اورگفتگو کے بعد اس کے عمل سے منافقت عیاں ہو جاتی ہے۔ان زبردستی مسلط کیے گئے چاپلوس حکمرانوں کی جہالت کے باعث ملک کی معیشت پہلے ہی تباہ ہو چکی ہے،ادارے اپنی اہمیت و افادیت کھو چکے ہیں۔اب تو جو برائے نام جمہوریت رہ گئی تھی ان بچہ سقہ کی باقیات نے اس کا بھی تیا پانچہ کر دیا ہے۔ان کی شیطانی حرکات سے ہمارے سیاسی نظام کو بھی خطرہ ہے۔سپریم کورٹ اس حکومت کے کرتوتوں سے تنگ آکر پوچھ رہی ہے کہ یہ حکومت میں پچاس وزرا کیا کام کر رہے ہیں۔ڈاکٹرز کھانے کی بجائے عام آدمی سے حفاظتی کٹس مانگ رہے ہیں،سوچنے کی بات ہے کہ کیا پاکستان کے مینوفیکچررز ڈاکٹرز کیلئے حفاظتی کٹس نہیں بنا سکتے؟لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ملک میں معیشت کا پہیہ نہ چلایا گیا تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے اور ملک کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔
احساس پروگرام کے نام پر فراڈ کی انتہا ہو رہی ہے ۔ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کو دنیا بھر میں سماجی فاصلوں کی سختی سے ہدایات کی جا رہی ہے۔کورونا وائرس ایک سے دو ،دو سے چار اور چار سے آٹھ کی صورت پھیلتا جا رہا ہے تو ایسی خطرناک ترین صورتحال میں اس ملک پر مسلط کیا گیا وزیراعظم عواتوں کے ہجوم جمع کر کے تین ماہ کا خرچہ مبلغ بارہ ہزار روپے بانٹ رہا ہے۔ اس شیطانی سخاوت کی آڑ میں مظلوم و مجبور ،بھوکے اور بے حس و جاہل لوگوں کو غول در غول گھروں سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہزاروں خواتین پیسوں کے لالچ میں بھیڑ لگا دیتی ہیں لیکن پیسے لاکھوں میں سے صرف چند ہزار کو ملتے ہیں ۔لیکن کورونا وائرس لاکھوں میں پھیل جاتا ہے۔اس طرح دیکھا جائے تو عمران نیازی ذاتی طور پر کورونا وائرس پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔یہ ایک سنگین قومی جرم ہے ۔اسے روکا نہ گیا تو میری قوم اور ملک کے وہ سب ذمہ دار ہون گے جو اس ملک کے وسائل پر قابض شاہانہ مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ان کے اس عمل کے خلاف سخت ترین رد عمل اور راست اقدام نہ اٹھایا گیا تو یہ اور اس کے حواس باختہ حواری قوم کی لٹیا ڈبونے سے بھی باز نہیں آئیں گے۔ثانیہ نشتر کی اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ سترہ لاکھ خاندانوں تک ساڑھے بائیس ارب روپے پہچا دیے گئے ہیں۔ اتنے بڑے جھوٹ سے تو ملک پر کورونا وائرس کے علاوہ اور قہر نازل ہو گا۔ حکومت کی صرف غیر سنجیدہ باتیں ہیں،لو گ گھروں میں بند ہیں مجبوری کے عالم میں اگر کوئی باہر جاتا ہے تو پولیس پکڑ کر مرغا بنا تی ہے اور جوتے مار رہی ہے یہ انسانیت کی تذلیل اور توہین ہے۔
ان کی مکاریوں کا اندازہ سپریم کورٹ کی اس ہدایت سے ہوتا ہے جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو عہدے ہٹانے کی ہدایت کردی گئی ہے لیکن ا ٹا رنی جنرل ہاتھ جوڑتے ہیں کہ اس نے صحت کے شعبے میں آدھی تباہی توکر دی ہے باقی بھی اسی کو کرنے دیں۔ لعنت اللہ علی الکذبین والمنافقین۔ حکومتی کابینہ کو دیکھیں قومی وسائل پر پلنے والی عمرانی ٹیم 50 رکنی ہوگئی ہے۔ سب ایرے غیرے اعلی عہدوں پر فائز کیے جا رہے ہیں۔اگر کوئی نشے کا عادی ہے تو اسے اس کے اپنے گھر تک محدود کیا جائے یہ ملک اور قوم کسی کے باپ دادا کی جاگیرنہیں ہے کہ وہ من مانی کرتا رہے گا۔قومی خزانہ ہے۔ریاست کے وسائل ہیں سب لوٹ مار میں ایسے شریک ہیں جیسے کورونا وائرس سب کچھ کھا جائے گا اور یہ حرامخور کیا کریں گے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ ہمارے ملک کے ادارے کیوں خاموش ہیں۔مجھے توپوری استقامت اورقوت کے ساتھ کہنا ہے کہ اہم عہدوں پر فائز ان سب لوگوں کے حلف نامے اور ان کے فرائض سامنے رکھ کر فیصلہ کر لیا جائے کہ کیا یہ اقتدار پر مزید قابض رہنے کے قابل ہیں؟کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث کے مبینہ الزامات ہیں،
سپریم کورٹ اگر یہ بات کہہ رہی ہے تو اس سے بڑا اور کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ملک پر بدترین لوگ مسلط کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے حکومتی ٹیم سے 5 سوال پوچھے تھے، حکومت کی ٹیم کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دے سکی؟ وجہ کیا ہے ؟ عدالت سمجھتی ہے کہ حکومت کام نہیں کر رہی ہے؟ وزیراعظم کہلانے والے عمران نیازی ہر کام کیلئے چندہ مانگنے کے بعد اب دنیا بھر سے کورونا وائرس کے نام پر چندہ مانگ رہے ہیں۔عوام بھوک سے مر رہے ہیں یہ اب بھی چندہ مانگ رہا ہے۔ یہ خود بنی گالہ سینکڑوں کنال اراضی پر تعمیر کیے گئے گھر میں رہتا ہے۔وزیراعظم عمران نیازی کورونا فنڈ کے نام پر چندہ و خیرات مانگنے کی بجائے سب سے پہلے بنی گالہ میں واقع اپنی اربوں روپے کی جائیداد میں سے نصف کورونا فنڈ میں کیوں نہیں دیتے؟؟ آوارگی سے لیکر وزارت عظمی تک اس شخص نے ہر کام کیلئے چندہ مانگا ہے لیکن اپنی ماں کی بیماری پر بھی اپنی کمائی کا پیسہ خرچ نہیں کیا۔ایسے بے حس انسان سے بھلائی اور انسان دوستی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔نعیم الحق کی وفاداری اور وفات کو دیکھ لیجئے،جہانگیر ترین کی تذلیل دیکھ لیجئے۔ یہ بات اس سے کیوں نہیں پوچھی جاتی؟ کیا بدقسمتی ہے کہ جتنا بڑا فریب کار ہے اسے اتنا بڑا راہنما بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔گذشتہ تین ماہ میں ان مسلط شدہ حکمرانوں کا جو بھی کردار رہا ہے اسے من و عن عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے۔یہ کام سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے اور فوج کی اعلی قیادت کو اپنی سنگین ترین کوتاہیوں کا اعتراف کرنا ہوگا اور اس کا کفارہ اب لازم ہو گیا ہے۔
قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟ کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے پارلیمان قانون سازی کرے گا؟ کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کر چکے ہیں؟ سماجی فاصلہ رکھنے کے لیے حکومت کیا عملدرآمد کروا رہی ہے؟ کیا حکومت کا کام صرف اعداد و شمار بتا دینا ہے؟ہمارے ملک کی جمہوری حکومت عوام کیلئے کیا کر رہی ہے؟ سپریم کورٹ اگریہ سوالات پوچھ رہی ہے تو پھر معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔
وزیراعلی سندھ کا لہجہ بہت سخت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی بیماری سے نمٹ لیں اس کے بعد ان پی ٹی آئی والوں کو بھی دیکھ لیں گے؟ مراد علی شاہ کا کہنا بجا ہے کہ اب بات تنگ آمد بجنگ آمد والی ہو گئی ہے ہے لیکن مجھے صرف اتنا کہاں ہے کہ پاکستان کو سادہ،ایماندار،فرض شناس اور انسانیت دوست حکومت حکمرانوں اور بیوروکریسی کی ضرورت ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر تباہی رسوائی دونوں جہاں میں ان شاطر حکمرانوں اور عوام کا مقدر ٹھہرے گی کہ اللہ تعالی بھی ان کی مدد کرتا ہے جو کود اپنی مدد کرتے ہیں جہالت اور تکبر سے بڑا نہ کوئی گناہ ہے اور نہ ہی بیماری۔ہم نے ہمیشہ عدل وانصاف کی بات کی اور آج بھی وہی بات دہرا رہے ہیں لیکن پاکستان میں عدل و انصاف کی بجائے شیطان کی حکمرانی کا تسلسل ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔۔
