English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈائو یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کا کورونا کا علاج دریافت کرنے کا دعویٰ

القمر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈاؤ یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم نے کوروناوائرس کا علاج دریافت کرنے کادعویٰ کا ہے۔ ڈائو یونیورسٹی سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے کورونا وائرس سے صحت یاب مریضوں کے خون سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز سے انٹرا وینس امیونو گلوبیولن (آئی وی آئی جی) تیار کرلی ہے جس کے ذریعے کورونا متاثرین کا علاج کیا جا سکے گا۔ وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں اسے ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ڈاؤ کالج آف بائیو ٹیکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر شوکت علی کی سربراہی میں ریسرچ ٹیم نے دنیا میں پہلی مرتبہ کورونا کے علاج کے لیے امیونوگلوبیولن کا مؤثر طریقہ اختیار کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ امریکی ادارے ایف ڈی اے سے منظورشدہ یہ طریقہ علاج محفوظ، کم خطرناک اور
کورونا کے خلاف انتہائی مؤثر ہے‘ اس طریقہ علاج میں کورونا سے صحت یاب مریض کے خون میں نمو پانے والی اینٹی باڈیز کو علیحدہ کرنے کے بعد شفاف کر کے امیونو گلوبیولن تیار کی جاتی ہے، یہ طریقہ علاج پلازما تھراپی سے بالکل ہی مختلف ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی زیر نگرانی کام کرنے والی ٹیم نے شب و روز محنت کے بعد انٹروینس امیونو گلوبیولن (آئی وی آئی جی) تیار کی۔ ڈاؤ یونیورسٹی کی ٹیم ابتدائی طور پرمارچ2020ء میں خون کے نمونے جمع کرنے میں کام یاب ہو گئی تھی۔ بعد ازاں اس کے پلازما سے اینٹی باڈیز کو کیمیائی طور پر الگ تھلگ کرنے، صاف شفاف کرنے اور بعد میں الٹرا فلٹر تکنیک کے ذریعے ان اینٹی باڈیز کو مرتکز کرنے میں کام یاب ہوگئی، اس طریقے میں اینٹی باڈیز سے باقی ناپسندیدہ مواد جن میں بعض وائرس اور بیکٹیریا بھی شامل ہیں انہیں ایک طرف کر کے حتمی پروڈکٹ یعنی ہائپر امیونوگلوبیولن تیار کرلی جاتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا میں پہلی مرتبہ پاکستان میں کورونا سے صحت یاب مریض کے خون سے یہ امیونوگلوبیولن تیار کی گئی ہے جو کورونا بحران میں امید کی کرن تصور کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ غیر متحرک مامونیت (پیسیو امیونائزیشن) کی ہی ایک قسم ہے مگر اس میں مکمل پلازما استعمال کرنے کے بجائے اسے شفاف کر کے صرف اینٹی باڈیز ہی لیے جاتے ہیں۔ ریسرچ ٹیم نے کوووڈ 19 کے صحت یاب مریضوں کی جانب سے عطیہ کیے گئے خون کو شفاف کر کے اینٹی باڈیز علیحدہ کیے جو کورونا کو غیر موثر کر چکے تھے‘ ان کی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور حیوانوں پر اس کا سیفٹی ٹرائل کرکے حاصل ہونے والی ہائپر امیونوگلوبیولن کو کام یابی کے ساتھ تجرباتی بنیادوں پر انجکشن کی شیشیوں (وائلز) میں محفوظ کرلیا۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے معالجین کو ریسرچ ٹیم کے ساتھ مل کر اس نئے طریقہ علاج کے ٹرائل کے لیے اخلاقی اور قانونی حکمت عملی وضع کرنے کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ مشترکہ ٹیم کے دیگر اراکین میں ڈاکٹر شوبھا لکشمی، سید منیب الدین، میر راشد علی، عائشہ علی، مجتبیٰ خان، فاطمہ انجم اور ڈاکٹر صہیب توحید شامل ہیں۔ ایک ہفتے قبل ہی دنیا کی 6 بڑی ویکسین بنانے والی کمپنیوں نے اس عمل کو شروع کرنے کے لیے اشتراک کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ڈاؤ یونیورسٹی نے اس عمل میں سبقت لیتے ہوئے مقامی کورونا وائرس کی قسم کے خلاف انٹرا وینس امیونو گلوبیولن تیار کرلی ہے۔ حالیہ دنوں کی ریسرچ نے مقامی کورونا وائرس کی قسم میں کچھ جینیاتی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایسی صورت میں مقامی وائرس کے خلاف بنائی گئی آئی وی آئی جی بہت موثر اور مفید ثابت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے