
سرینگر(ساوتھ ایشین وائر )مقبوضہ کشمیرمیں شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز بیمینہ نے ڈاکٹر آصف علی بھٹ کو پرسنل پروٹیکشن اکیوپمنٹ کا مطالبہ کرنے پر نوکری سے برخواست کردیا۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ڈاکٹرز ایسوسیشن آف کشمیر کے صدر کو لکھے گئے ایک خط میں ڈاکٹر بھٹ نے دعوی کیا کہ انہوں نے کئی مرتبہ اسوسی ایشن سے مطالبہ کیا کہ ان کے پاس پی پی ای کٹس نہیں ہیں اس کے باوجود بھی ہم اپنے پیشہ وارانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ "مسلسل گزارش اور درخواستیں دائر کرنے کے باوجود بھی انتظامیہ ڈاکٹروں کو ضروری پی پی ای فراہم نہیں کر رہی تھی- انہوں نے مزید کہا کہ رواں ماہ کی 17 تاریخ کو جب میں اپنا کام ختم کر کے اسٹور کے انچارج ڈاکٹر امتیاز احمد کے پاس پی پی ای مانگنے گیا تو انہوں نے نازیبا الفاظ استعمال کیے۔”ڈاکٹر آصف نے خط میں مزید لکھا تھا کہ ” ڈاکٹر امتیاز کے ساتھ ہوئی بحث کے بعد ان کو مسلسل ڈرایا اور دھمکایا جارہا تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے دھمکی دی جارہی تھی کہ انہیں نوکری سے نکالا جائے گا ۔ القمرآن لائن کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کے اہل خانہ سمیت انہیں جیل بھیجنے کی بھی کئی مرتبہ دھمکیاں دی جارہی تھی جس کے بعد 20 اپریل کو ڈاکٹر آصف کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آصف شعبہ حادثات میں جونئیر ریذیڈنٹ کے بطور اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ڈاکٹر آصف کے نوکری سے نکالے جانے پر جموں و کشمیر ڈاکٹرز کوارڈینیشن کمیٹی نے شدید مذمت کی ہے۔کوارڈینیشن کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر محمد یوسف ٹاک نے اپنا سخت درعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ” اس نازک وقت میں طبی شعبہ کے اور ڈاکٹرز کے حوالے سے اس طرح کے معاملات سامنے آنا افسوس کی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم ہسپتال کی انتظامیہ پر کالا دھبہ ہے۔ پی پی ای کی مانگ کرنا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ ایک ڈاکٹر کا حق ہے اور اس کی فراہمی ہسپتال کی انتظامیہ کی ذمہ داری۔”
