واشنگٹن/ لندن/میڈرڈ /روم /پیرس/ بیجنگ/ انقرہ/ ریاض/ تہران/نئی دہلی/جنیوا (خبرایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس نے دنیا بھر میں مزید 6ہزارافراد ہلاک ہوگئے۔ اس طرح مجموعی اموات کی تعداد ایک لاکھ 89ہزار ہوگئی۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈراس نے خبردار کیا ہے کہیہ وبا طویل عرصے رہے گی، دنیا غلط فہمی میں نہ رہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مغربی یورپ میں تو وبا کے پھیلاؤ میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے لیکن افریقا، مشرقی یورپ، وسطی اور جنوبی امریکا میں اس حوالے سے پریشان کن اشاریے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، ابھی ایک طویل دورانیہ باقی ہے، ہمیں وائرس وبا پر قابو پانے کے لیے لمباسفر طے کرنا ہے، افریقا سمیت متعدد ممالک میں اس کا ابھی آغاز ہوا ہے۔ ڈاکٹر ٹیڈراس نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے درست وقت پر کورونا وائرس ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا، ممالک کے پاس اس وبا پر قابو سے متعلق اقدامات کے لیے کافی وقت موجود تھا۔ علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت کے ترجمان فدیلا صیب نے شواہد کی بنیاد پر کورونا وائرس کو قدرتی قرار دے دیا ہے۔انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ عالمی برادری کو اس وقت وبا کے ساتھ ساتھ افواہوں کا چیلنج بھی درپیش ہے، حالیہ دنوں میڈیا میں کورونا وائرس کے ماخذ کے بارے میں بے شمار افواہوں کا پھیلنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ یہ وائرس جانور سے منتقل ہوا، ممکنہ طور پر چمگادڑ وائرس کا ماخذ ہے اور یہ وائرس کیسے انسان میں منتقل ہوا؟ اس کی تحقیق جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ چمگادڑ اور انسان کے درمیان ایک اور جاندار بھی ہو سکتا ہے جو وائرس کی منتقلی کا سبب ہے۔ دنیا بھر میں محققین اس حوالے سے نتیجہ اخذ کرنے میں مصروف ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے خبردار کیا ہے کہ کووڈ انیس کی عالمی وبا بہت تیزی کے ساتھ ایک انسانی بحران سے انسانی حقوق کے بحران میں تبدیل ہو رہی ہے۔اپنے ایک بیان میںانہوں نے کہا کہ پبلک سروسز کی فراہمی میں امتیازی رویے دیکھنے میں آئے، کئی مقامات پر نفرت انگیزی دیکھی گئی، تو کہیں نازک گروپوں کو شکار بنایا گیا۔سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں سخت سیکورٹی اقدامات وبا سے نمٹنے کی کوششوں کو متاثر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کا فائدہ اٹھا کر انسانی حقوق کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چند ممالک میں کورونا وائرس نسلی قومیت ، پاپولزم ، آمریت پسندی اور انسانی حقوق کے خلاف جابرانہ اقدامات کرنے کا بہانہ فراہم کرسکتا ہے جو ناقابل قبول ہے لہٰذا اس سلسلے میں دنیا کی حکومتیں شفاف اور ذمے دارانہ کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں اور صحافت کی آزادی اہم ہے، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور نجی شعبے بلکہ ہم سب اپنا ضروری کردار ادا کریں اور یہ بات یاد رکھیں کہ خطرہ لوگوں سے نہیں بلکہ وائرس سے ہے۔
دنیا بھر میں مزید 6 ہزار اموات‘کورونا طویل عرصے رہے گا‘ پریشان کن اشاریے ہیں‘ عالمی ادارہ صحت
القمر
