برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی میں تمام مساجد 4 مئی2020ء سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق برلن حکومت کی جانب سے مشروط فیصلے کے بعد مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ مساجد میں نماز با جماعت اور تراویح ہوں گی۔ اس سے قبل کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیشِ نظر جرمنی میں مساجد سمیت تمام عبادت گاہیں بند تھیں لیکن اب متعلقہ حکام نے 4 مئی سے مساجد اور دوسری عبادت گاہیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہر مسجد میں 50 افراد باجماعت نماز تراویح ادا کرسکیں گے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے ساتھ حکومتی اقدامات پرعمل یقینی بنانے کے پابند ہوں گے۔ علاوہ ازیں جرمنی کی حکومت نے اسکول، ریل اور بس سروس سمیت دیگر ٹرانسپورٹ بھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جرمن حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق برلن میں مساجد انتظامیہ معاملات کی بہتری تک مساجد بند رکھنے پر متفق ہیں اور اس کا مقصد کورونا کا ممکنہ پھیلاؤ روکنا ہے۔ تاہم عبادت گاہوں میں اجتماع کی مشروط اجازت کے باوجود حکومت مسلمانوں کو رمضان کی عبادات گھروں پر ادا کرنے کی ترغیب دے ہی ہے۔ اس سے قبل جرمنی میں کورونا وائرس کے سبب 16 مارچ کو غیر معیہ مدت کے لیے تمام عبادت گاہوں میں اجتماعی عبادت پر پابندی لگائی گئی تھی۔ یہ فیصلہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں نے مل کر کیا تھا۔ اس حکم نامے میں مذہبی، سماجی اور فلاحی تنظیموں کے اجلاس بھی ممنوع قرار دیے گئے تھے ۔ حکم نامے کے مطابق تمام کلیساؤں، مساجد، یہودی عبادت گاہوں اور دیگر مذاہب کے عبادت خانوں میں عبادت گزاروں کے جمع ہونے پر پابندی لگائی گئی تھی۔
جرمنی،مساجد کھولنے کی اجازت پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر
القمر
