English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کورونا وائرس: عالمی معیشت کا مستقبل شدید خطرے میں

القمر

نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیوں کی معطلی کی وجہ سے عالمی معیشت کا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہوگیا۔ عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے چند خطوں میں شرح نمو منفی ہو سکتی ہے، جب کہ بقیہ خطوں میں متوقع شرح نمو سے انتہائی کم نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق عالمی تجارت میں 30فیصد کمی آئے گی۔ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ 1930ء کی کساد بازاری کے بعد یہ سب سے بڑا بحران بن سکتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ سب سے زیادہ نقصان چین کو ہو گا اور اس کی شرح نمو 6فیصد تک گر سکتی ہے۔ کورونا وائرس کے پیش نظر جرمنی کی بڑی کمپنیوں نے پیداوار کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔ رواں برس یورپ کی اس سب سے بڑی معیشت کے نمایاں طور پر سکڑ جانے کاخطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ جرمن حکومت کے ماہرین معاشیات کے ایک پینل نے خبردار کیا ہے کہ وائرس کی وجہ سے عائد کی جانے والی پابندیاں مجموعی قومی پیداوار میں 2.8فیصد سے لے کر 5.4 فیصد تک کمی لائیں گی۔ فی الحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ جرمن معیشت کو کس قدر نقصان پہنچے گا۔ ماہرین کے مطابق انحصار اس بات پر ہو گا کہ حکومت کورونا وائرس کے بحران کے پیش نظر عائد پابندیاں کب تک برقرار رکھتی ہے اور معیشت کی بحالی کس تیزی کے ساتھ ہوتی ہے۔ جرمنی میں اٹلی، فرانس یا اسپین کی نسبت لاک ڈاؤن نرم ہے، لیکن اس کے باجود ملک میں فضائی کمپنی لفتھانزا اور فوکس ویگن جیسے بڑے کارساز ادارے اپنے آپریشن بند کر چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے