لاہور(جسارت نیوز)سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹر سلیم ملک نے فکسنگ کے معاملے پر مداحوں سے معافی مانگ لی، 19 سال بعد فکسنگ معاملے پر آئی سی سی، پی سی بی سے تعاون کرنے کا اعلان کردیا۔اپنے ویڈیو پیغام میں57 سالہ سلیم ملک کا کہناتھا کہ میں اپنے کیے پر مداحوں سے معافی مانگتاہوں ، مداحوں کے دل دکھے اس لیے سب سے معافی چاہتاہوں ، آئی سی سی سے غیر مشروط تعاون کروں گا اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھی تعاون کروں گا۔ان کا کہناتھا کہ انسانی حقوق قوانین کے تحت میرے ساتھ بھی نرمی برتی جائے ، فکسنگ میں ملوث باقی کرکٹرز کو دوسرا موقع دیا گیا ، مجھے بھی دوسرا موقع دیا جائے ،سلیم ملک کا کہنا ہے کہ کرکٹ میری روزی روٹی ہے جس طرح دوسرے کرکٹرز کو بھی کھیلنے اور کام کرنے کی اجازت ہے اسی طرح مجھے بھی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوچنگ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں کام کا موقع ملنا چاہیے۔اس سے قبل 2012ء میں بھی سلیم ملک نے اسی طرح کا اعلان کیا تھا اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کام کے لیے لیٹر بھی لے لیا تھا لیکن پھر روک دیا گیا۔یاد رہے کہ ا س سے قبل ایک بیان میں ہیڈ کوچ انضمام الحق نے بھی سلیم ملک کے حق میں بیان جاری کیا تھا جبکہ ثقلین مشتاق کا کہناتھا کہ میری عمران خان اور چیئرمین پی سی بی سے درخواست ہے کہ سلیم ملک کو بہت رگڑا لگ گیا اب ان پر پابندی ختم کر دینی چاہیے ، جب وہ کرکٹ میں آئیں گے تو وہ جان لڑ ادیں گے۔انضمام الحق کا کہناتھا کہ سلیم ملک کے پاس بہت سا تجربہ اور مواد ہے جس سے کھلاڑی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے سلیم ملک کی معافی پر ردعمل دیتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیاہے۔پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ فکسنگ میں ملوث کسی بھی کھلاڑی کے لیے پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ سے تعاون ہی واحد راستہ ہے، سلیم ملک نے ابھی تک کچھ سوالات کے جوابات نہیں دیے جو ان سے 12-2011 میں پوچھے گئے تھے۔تفضل رضوی نے کہا کہ سابق کپتان کو آئی سی سی سے ملنے والے ٹرانسکرپٹ بھی دی گئی تھی کہ اسے اچھی طرح دیکھ کر وہ جوابات دیں، سلیم ملک سے ان کی لندن میں مشکوک لوگوں سے ملاقاتوں میں ان کے کردار کے حوالے سے پوچھا گیا تھا، اس وقت تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا، اب اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو معاملے کو آگے بڑھایاجاسکتا ہے۔
معافی مانگتاہوں ،کام کا موقع ملنا چاہئے ،سلیم ملک،پہلے کچھ سوالات کا جواب دیں،تفضل رضوی
القمر
