ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز نے کم عمر افراد کے جرائم پر سزائے موت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس سے قبل سعودی عدالت عظمیٰ کی جانب سے کوڑوں کی سزا ختم کر کے اسے قید یا جرمانے سے تبدیل کرنے کا حکم سامنے آیا تھا۔ خبررساں اداروں کے مطابق سعودی انسانی حقوق کمیشن کا کہنا تھا کہ اس حکم نامے کا مطلب یہ ہے کہ جن افراد کو کم عمری میں کیے گئے جرم پر سزائے موت ہوئی انہیں اب اس سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اس کے بجائے ان افراد کو بچوں کی جیل میں کم از کم 10 سال کے لیے قید کیا جائے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ سزا میں تخفیف کے اس حکم کا اطلاق کب سے ہوگا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں 2019ء کے دوران 184 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی جس میں ایک شخص وہ بھی شامل تھا جسے کم عمری میں کیے گئے جرم پر سزا دی گئی تھی۔ شاہی فرمان میں استغاثہ کو کو مقدمات پر نظرِ ثانی کرنے اور جو مجرم 10 سال کی سزا بھگت چکے ان کی مزید سزا ختم کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ تاہم اعلان کے مطابق کم عمر افراد کے دہشت گردی سے متعلق مقدمات کو الگ طریقے سے چلایا جائے گا اور فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ یہ مقدمات بھی 10 سال کی قید کے پابند ہوں گے یا نہیں۔ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال جس پر ریاض حکومت بھی دستخط کرچکی ہے، کے مطابق کم عمر افراد کی جانب سے کیے جانے والے جرائم پر موت کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا انسانی حقوق کا ریکارڈ دنیا میں سب سے برا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہاں اظہار رائے کی آزادی کو کچلا جاتا ہے اور پھر حکومت پر تنقید کرنے والوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ ڈیڑھ ہفتے قبل انسانی حقوق کے معروف سعودی کارکن عبداللہ الحامد ایک سعودی جیل میں ہلاک ہوگئے تھے، سعودی انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ 2 ہفتے قبل بیمار ہوئے تھے لیکن سعودی حکام نے ان کی بیماری کے دوران مناسب علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں کیں۔
سعودی عرب ،کم عمر افراد کیلئے موت کی سزا ختم
القمر
