ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)مسن میں سحروافطار کے اوقات میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے تمام حکومتی دعوؤں کو جھوٹا ثابت کردیا ہے، بلوں میں عوام کو ریلیف ملا ناہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کاوعدہ پورا کیا گیا، صنعتیں اور کاروبار بند ہیں پھر بھی عوام کو لوڈشیڈنگ کی اذیت برداشت کرنا پڑرہی ہے، شہریوں نے کہا کہ سحروافطار میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے تمام تردعوؤں کے باوجود روزانہ کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ عوام کے ساتھ ظلم ہے، مہنگائی سے لے کر بجلی بحران تک کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا، حکومتی اعلانات کے باوجود شہروں و دیہات میں سحری‘ افطاری کے دوران بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اسی دوران گیس کا پریشر بھی کم ہونے سے خواتین کوسحری کی تیاری میں مشکلات کا سامنا ہے ۔مسن میں شہری سحری بھی اندھیرے میں کرنے پر مجبور ہیں، لاک ڈاؤن کے دوران میں بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں آرہی، بجلی کی غیرمعمولی بندش نے عوام کا جینا عذاب کر دیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حکومت ملک میں بجلی بحران کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھانے کے بجائے نمائشی اقدامات کرتی رہی ہے اور وہ بھی کرپشن کمیشن کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں، بجلی ڈسٹری بیوٹر کمپنیاں بھی عوام دشمنی میں پیچھے نہیںہیں، حیسکو نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے، صارفین اووربلنگ، ڈیڈکشن، لوڈشیڈنگ اور دیگرمظالم کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں مگر حکمرانوں سے حیسکو انتظامیہ تک کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔انہوں نے زوردیا کہ حکومت ماہ صیام میں مہنگائی کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بے قابو جن کو بوتل میں بند کرنے کے لیے سنجیدہ اورکرپشن فری اقدامات کرے تاکہ لاک ڈاؤن،غربت،بیروزگاری اور گرمی کے ستائے صارفین کچھ تو سکون کا سانس لے سکیں۔
ٹنڈوالٰہیار،سحر و افطار میں بد ترین بجلی کی لوڈشیڈنگ ،شہری پریشان
القمر
