طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں ایک بار پھر گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق باغی حفتر ملیشیا کی جانب سے حملے نہ روکنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ وفاقی قومی حکومت نے منگل کے روز الوطیہ ائربیس پر بڑا حملہ کیا۔ اس دوران شدید جھڑپوں میں فریقین کے 20 سے زائد ارکان مارے گئے، جب کہ 30 سے زائد زخمی ہوئے۔ مارے جانے والوں میں باغی ملیشیا کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر کا مقرب سمجھے جانے والا کمانڈر اسامہ مسیک بھی شامل ہے۔ اس دوران فضائیہ نے ائر بیس پر 24 حملے بھی کیے۔ فوجی ترجمان کرنل محمد کونونو نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ الوطیہ ائر بیس پر 24 فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔ حملوں میں گراڈ میزائل سے مسلح 2 گاڑیوں اور مختلف اسلحہ اور گولہ بارود سے لدی گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ 40 مربع کلومیٹر کے رقبے پر قائم الوطیہ ائربیس دارالحکومت طرابلس سے 140 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ الوطیہ کے فوجی اڈے کو انتہائی اہمیت حاصل ہے، جس کا سابق نام عقبہ بن نافع فوجی اڈا تھا۔ یہ العجیلات کے جنوب میں واقع ہے اور انتظامی طور پر لیبیا کے مغربی علاقے الجمیل کے تحت آتا ہے۔ اس کے ذریعے ناصرف طرابلس بلکہ لیبیا بھر میں عسکری اہداف کے خلاف فضائی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ الوطیہ کا فوجی اڈا 7 ہزار فوجی اہل کاروں کی گنجایش رکھتا ہے۔ دوسری جانب باغی ملیشیا نے دارالحکومت طرابلس پر شدید گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں میاں بیوی اور ان کے 2 بچے شہید ہوگئے، جب کہ رہایشی علاقے میں گولے گرنے سے کئی مکانات کو نقصان بھی پہنچا۔
لیبیا میں گھمسان کی لڑائی ،24 افراد مارے گئے
القمر
