English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سینا میں موجود امریکی فوجی کم کرنے پر غور‘ اسرائیل پریشان

القمر

واشنگٹن ؍ مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی جانب سے مصر کے جزیرہ سینا میں تعینات اپنے امن فوجی دستوں کی تعداد میں کمی کرنے کے فیصلے کے بعد صہیونی ریاست میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سینا میں فوجی کم کرنے کے امریکی اشارے کے بعد اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی توانائی کے وزیر یووال اسٹینز نے کہا ہے کہ امریکی فوج جزیرہ نما سینا میں گزشتہ 4 دہائیوں سے موجود ہے اور خطے میں امریکی عسکری موجودگی کو اسرائیل انتہائی اہمیت کا حامل تصور کرتا ہے۔ واضح رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر دفاع مارک ایسپر جزیرہ نما سینا میں بین الاقوامی امن فوج میں شامل امریکیوں کو واپس بلانا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی عہدے داروں نے مزید بتایا کہ جزیرہ سینا سے امریکی فوج کے ممکنہ انخلا کا مقصد فوجی اخراجات کو کم کرنا ہے۔مارک ایسپر کا خیال ہے کہ جزیرہ نما سینا میں میں فوج کی موجودگی اتنی اہم نہیں مگر انہیں وہاں پر خطرات زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکی محکمہ خارجہ سینا سے امریکی افواج کے انخلا کی مخالفت کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے