کولمبو( مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم خاتون کی لاش جلائے جانے کے بعد کورونا ٹیسٹ منفی آگیا، کورونا وائرس کی آڑ میں تضحیک آمیز رویہ اپنانے پر مسلمانوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے یکساں رویے اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کردیا۔کورونا وائرس کے دوران مسلمانوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور انہیں اسلامی عقائد کے مطابق مْردوں کی تدفین بھی نہیں کرنے دی جا رہی۔زبیر فاطمہ رنوسا کو کورونا وائرس کا مریض قرار دیا گیا تھا اور سری لنکن قانون کے تحت وائرس کا متاثرہ مریض ہونے کے سبب ان کی لاش کو جلا دیا گیا تھا البتہ ان کی آخری رسومات کے دو دن بعد آنے والی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مرحومہ وائرس کا شکار نہیں تھیں۔واضح رہے کہ سری لنکا میں اب تک کورونا وائرس سے کل 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 3 مسلمان ہیں اور اسلامی اقدار اور طریقہ کار کے برخلاف ان تمام افراد کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی سری لنکا میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ سری لنکا میں مسلمانوں کو ہتک آمیز رویے کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
سری لنکا میں کورونا مرض پر جلائی گئی مسلم خاتون کا ٹیسٹ منفی آگیا
القمر
