کابل (خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں اسپتال اور جنازے پر حملوں میں 54 افراد ہلاک ہوگئے۔غیرملکی خبررساں دارے کے مطابق کابل کے علاقے دشت بارچی میں پولیس کی وردیوں میں ملبوس افراد نے اسپتال پر حملہ کیا اور وہاں موجود افراد کو یرغمال بنالیا۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران 2 دھماکے ہوئے اور فائرنگ کی آواز سنی گئی جبکہ اس دوران 180 افراد اسپتال میں موجود تھے۔حملے کے نتیجے میں میٹرنٹی ہوم میں موجود 2 کمسن بچوں، خواتین اور نرسز سمیت 14 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ واقعے میں بچوں سمیت 15 زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ حملے کے دوران افغان سیکورٹی اہلکاروں نے اسپتال سے خواتین، بچوں اور 3 غیر ملکیوں سمیت 100 افراد کو بحفاظت نکال لیا جبکہ آپریشن میں تمام حملہ آور مارے گئے۔ افغان سیکورٹی حکام کے مطابق حملہ آور اسپتال کے ذریعے اس کے پیچھے موجود گیسٹ ہاؤس میں داخل ہونا چاہتے تھے جہاں کئی غیر ملکی بھی موجود تھے۔خیال رہے کہ اسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کا انتظام ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ‘ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ چلارہی ہے جس کے باعث کئی غیرملکی بھی وہاں کام کرتے ہیں۔غیر ملکیوں نے اسپتال کے پیچھے بنی عمارت میں رہائش اختیار کررکھی تھی۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسپتال پر حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ طالبان کا کابل اسپتال پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دوسری جانب مشرقی صوبے ننگرہار میں بھی مقامی پولیس کمانڈر کی نماز جنازہ میں بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔خود کش حملے میں صوبائی کونسل کے رکن سمیت 40 افراد ہلاک اور68 زخمی ہوگئے۔جنازے میں حکومتی عہدیداروں اور اراکین پارلیمنٹ کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ حکام کے مطابق خود کش حملے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی شناخت ناممکن ہے۔ننگر ہار کی صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنازے میں حملے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے سے بھی لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔قبل ازیں صوبے بلخ میں افغان فضائیہ کے حملے میں 11 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ بمباری میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر معصوم شہری تھے جس پر افغان وزارت دفاع نے تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے مقامی فوج کو ملک گیر آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دفاعی انداز اپنانے سے دشمن کو غلط پیغام گیا ہے۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف جارح اندازاپنانا ہوگا۔ ادھر پاکستان نے افغانستان میں کابل کے اسپتال اور ننگرہار میں خود کش حملے کی مذمت کی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو غیر انسانی اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقدس ماہ رمضان میں یہ دہشت گردی کی کارروائی کی گئی ،ہم متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اور زخمیوں کی فوری صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں،دکھ کی اس گھڑی میں افغانستان کے عوام کے ساتھ ہیں۔پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر قسم کی مذمت کرتا اور پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔
افغانستان میں اسپتال اور جنازے پر حملے‘40ہلاک
القمر
