واشنگٹن( آن لائن )پاکستان جی20 ممالک کے دسمبر تک قابل ادا 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈولنگ کے مرحلے میں ہے اور وہ کسی کمرشل قرضوں کی ری شیڈولنگ طلب نہیں کر رہے۔ رپورٹ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے وزارت اقتصادی امور کو 17 اپریل کو جی 20 ممالک کے نمائندگان سے غریب ممالک کے لیے اعلان کیے گئے قرضوں میں ریلیف کے حوالے سے مذاکرات کرنے کی اجازت دی، ای سی سی نے وزارت سے 11 مشترکہ قرض دہندگان سے مشترکہ قرضوں کی معطلی کے لیے بات چیت کرنے کا کہا،ای سی سی نے وزارت کو مذاکرات کے بعد قرضوں کی ری شیڈولنگ معاہدے کی منظوری کے لیے ای سی سی سے رابطہ کرنے کی بھی تجویز دی، مجموعی طور پر قرضوں میں ریلیف کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سال مئی سے جون کے دوران 11ممالک کو پاکستان کی جانب سے 1.8 ارب ڈالر کی ادائیگی معطل ہوجائے گی۔پاکستان نے 11 مئی 2020 ء سے جون 2021 ء کے درمیان 11مشترکہ قرض دہندگان کو کل 2 ارب 58 کروڑ ڈالر قرض ادا کرنا ہے اس عرصے کے دوران پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سعودی عرب کو 62 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہیں، اس کے بعد چین کو 61 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور جاپان کو 57 کروڑ 80 لاکھ ڈالر، فرانس کو تقریبا ً28 کروڑ ڈالر، امریکا کو 19 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور جرمنی کو 14 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہیں۔اس عرصے کے دوران ادا کیے جانے والے دوسرے قرضوں میں کوریا کو 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر، کینیڈا کو 3 کروڑ 45 لاکھ ڈالر، روس کو 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ، اٹلی کو 09 لاکھ ڈالر اور برطانیہ کو 13 لاکھ ڈالر شامل ہیں جی-20 ممالک کے قرض کی مد میں پاکستان کو جو 1.8 ارب ڈالر کی قسط دسمبر 2020ء میں ادا کرنی ہے اس کا بھی شیڈول ازسرنو مرتب کیا جا رہا ہے۔
جی20 کے 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈولنگ مرحلے میں
القمر
