English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرکٹ کی بحالی کیلئے تماشائیوں کے بغیر میچز ہونے چاہییں عالمی کرکٹرز

القمر

لاہور (جسارت نیوز ) انٹرنیشنل پلیئرز کی جانب سے صورتحال کو سمجھنے کے بعد بند دروازوں کے پیچھے خاموش کرکٹ کو حمایت ملنے لگی ،سابق قومی آل راؤنڈر اظہر محمود کا کہنا ہے کہ ذاتی طور پر وہ بھی خالی میدانوں میں کھیلنے کے حمایتی نہیں لیکن کھیل کی جلد بحالی کیلیے ایسا کرنا ضروری ہو گیا ہے ،کھلاڑی داد و تحسین چاہتے ہیں جو شائقین کے بغیر بوریت کا شکار ہو جائیں گے۔سابق انگلش بیٹسمین کیون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے پرستاروں کو حوصلے کی ضرورت ہے اور یہ کھیل اس اعتبار سے مثبت کردار نبھا سکتا ہے ،تماشائی ہوں یا نہ ہوں لیکن کھلاڑیوں کو لازمی طور پر کرکٹ کھیلنا چاہئے۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال کے بعد دنیا بھر کے کھلاڑیوں میں خیالات کی تبدیلی واقع ہونا شروع ہو گئی ہے اور مشکلات کو سمجھنے والے پلیئرز نے بند دروازوں کی کرکٹ پر بھی آمادگی کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے جن کا موقف ہے کہ کسی بھی طرح کھیل کی بحالی کو ممکن بنانے کی ضرورت ہے۔سابق قومی آل راؤنڈر اورسابق بولنگ کوچ اظہر محمود کا خیال ہے کہ وہ اس بات کے قطعی حامی نہیں کہ بند دروازوں کے پیچھے خالی میدانوں میں کرکٹ کھیلی جائے لیکن اگر کرکٹ کو جلد ہی بحال کرنا ہے تو اس کے سوا کوئی آپشن بھی نہیں ہے کیونکہ مختلف ممالک کے کرکٹ بورڈز مالی بحران کا شکار ہیں جن کو سنبھالا نہیں ملا تو آنیوالے عرصے میں منفی اثرات کھلاڑیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ اظہرمحمود نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ انگلش کاؤنٹی کینٹ کی نمائندگی کرتے تھے تو انہیں اسٹیڈیم میں 5000 کے لگ بھگ شائقین کے سامنے کھیلنا ہوتا تھا لیکن جب انہوں نے آئی پی ایل میں شرکت کی تو وہاں عام طور 30 سے 35ہزار تماشائی موجود ہوتے تھے لیکن جب وہ انگلینڈ واپس آتے تو کاؤنٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں اس مخصوص ماحول کی کمی محسوس ہوتی تھی۔سابق انگلش بیٹسمین کیون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی ویکسین تیار نہیں کی جاتی پلیئرز کو بند دروازوں میں کرکٹ کھیلنا چاہئے کیونکہ ان حالات کا سامنا آخرکار کھلاڑیوں کو ہی کرنا ہوگا۔ کیون پیٹرسن کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ہر ایک پر اثر انداز ہو سکتا ہے خواہ ویرات کوہلی اور جوروٹ ہو یا کین ولیمسن تو پھر یہ تمام مل کر اس کیخلاف حکمت عملی مرتب کیوں نہیں کرتے کیونکہ فی الوقت یہ بات زیادہ اہم ہے کہ باہمی طور پر موجودہ صورتحال کیخلاف بہتر فیصلہ کیا جائے کیونکہ کھیل کی بحالی زیادہ اہم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے