English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کورونا سے جاں بحق افراد کی میتیں لواحقین کے حوالے نہ کرنا بے حرمتی اور دعوت گناہ ہے،علماء کرام

القمر

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق کے بعد پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور علماء کرام  نے بھی کوروناوائرس سے انتقال کرجانے والوں کی میتوں کی تجہیز تکفین خصوصا تدفین کے طریقہ کار پر شدید اعتراض کیا ہے اور پی ایم اے اور دیگر ایسوسی ایشنز نے حکومت سندھ کو خط لکھ کر شرعی تقاضوں کے مطابق کورونا وائرس کی میتوں کی تجہیز تکفین اور تدفین کے لیے  لواحقین کے سپرد کرنے پر زور دیا ہے  تاکہ وہ شرعی تقاضوں کے مطابق تجہیز و تکفین اور تدفین کو یقینی بناسکے ۔

 یہ بات جمعہ کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ( پی ایم اے ) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے ” جسارت ” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ خط میں ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت کی جانب سے کوروناوائرس کی میتوں کو لواحیقین کے حوالے نہ کرنے پر اعتراض کیا ہے ۔

 خط میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی میتوں کو ہوا نہ بنایا جائے کیونکہ کسی شخص کے مرنے کے بعد نہ تو وہ سانس لے سکتا ہے اور نہ ہی چھینک سکتا ہے جبکہ مرنے والے کو کوئی گلے بھی نہیں لگاتا ۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ لواحقین کو کورونا سے جاں بحق ہونے والے افراد کو غسل تجہیز اور تدفین کے دوران احتیاط کرنی چاہیے جبکہ نماز جنازہ کے دوران بھی سماجی فاصلوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔

پی ایم اے کے سیکریٹری نے واضح کیا کہ دیگر امراض کے مریضوں کو کورونا میں شمار نہیں کرنا چاہیے تاہم اس سوال کے جواب میں کہ “سرکاری و نجی اسپتالوں میں جانے والے ہر مریض کا کوروناوائرس ٹیسٹ لیا جارہا ہے اس پر آپ کیا کہیں گے ، اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ” مریض کی ہسٹری دیکھنے کے بعد کورونا کا ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی انہیں کورونا مشتبہ مریضوں میں شمار  کرنا چاہیے اور ایسے کے انتقال کے بعد ان کی مییتوں کو معمول کے طریقہ کار کے مطابق لواحقین کے حوالے کردینا چاہیے ۔

 ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر قیصر سجاد نے واضح کیا کہ کوروناوائرس کے ٹیسٹ سو فیصد درست نتیجہ نہیں دیتے اس لیے کسی مشتبہ مریض کا منفی رزلٹ آنے کے بعد دو اور تین بار احتیاط کے طور پر ٹیسٹ کرالینا مریض اور اس کے خاندان کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔

 انہوں نے کہا ہے کہ مثبت نتیجہ آنے کے بعد تو مریض کا علاج شروع ہوجاتا ہے لیکن منفی رزلٹ کے بعد مریض اپنے معمولات میں مصروف ہوجاتا ہے حالانکہ اسے بھی احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ یہ وباء ابھی موجود ہے ۔

 جماعت اسلامی سے منسلک اور جامعہ الحرمین کے مفتی عطاء الرحمن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی مییتوں کی تجہیز و تکفین اور تدفین سرکاری اہلکاروں کی جانب سے خود کرنا اور لواحقین کے حوالے مییتوں کو نا کرنا شرعی ، اخلاقی اور معاشرتی طور پر بہت غلط اور گناہ کو دعوت کے مترادف ہے ۔

کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے مسلمان شہید کا درجہ رکھتے ہیں،حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ ان کی مییتیں تجہیز تکفین اور تدفین کے لیے بلاتاخیر لواحقین کے حوالے کردیں ۔ مفتی عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ کورونا سے انتقال کرجانے والوں کی مییتوں کا اچھوت ظاہر کرنا مییت کی بے حرمتی ہے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا،اس لیے ان کا نماز جنازہ اور تدفین شرعی تقاضوں اور احکامات کے مطابق ہونا چاہیے،حکومت کی جانب سے مییتں لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ازخود کرنا غیر شرعی اور غیرمناسب عمل اور مرحوم کے رشتے داروں کے ساتھ زیادتی ہے ۔

 ممتاز خطیب اور عالم مولانا انتظارالحق تھانوی نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کورونا وائرس کی لپیٹ میں آکر جاں بحق ہونےوالوں کی ازخود تجہیز تکفین اور تدفین کرانا لاشوں کی بے حرمتی کرنے کے مساوی ہے اور یہ شرعی اور اخلاقی لحاظ سے درست نہیں ہے ۔اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے ۔ حکومت یا انتظامیہ کا یہ عمل ناابل برداشت ہے ۔

 انہوں نے بتایا کہ بیماری کی موت شہادت کا ایک درجہ رکھتی ہے اور ہم اپنے شہیدوں عام قبرستان کے بجائے مخصوص اور دور دراز کے قبرستان میں تدفین کیسے کرسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ حکومت کی ہدایات پر ایس او پی کے تحت کورونا سے جان بحق  ہونے والوں کی میتوں کو انتظامیہ ازخود پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں مخصوص قبرستان میں دفنا رہی ہے ایسی میت کو لواحقین کے حوالے نہیں کیا جاتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے