(file foto)
کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہےکہ سندھ حکومت کے دوہرے معیارات سے فرقہ واریت کو ہوا مل رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباسے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن اور پابندیوں کا سلسلہ دوماہ سے جاری ہے، جس میں بتدریج سختی اور نرمی کی جاتی رہی، کاروبار اور مارکیٹیں کھلنے میں کئی ہفتے لگ گئے اور اب بھی کاروبار جزوی طور پر ہی بحال ہوا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے، لاک ڈاؤن کے دوران مساجد بھی پابندیوں کی زد میں آئیں اور لوگوں کے لیے نماز جمعہ اور رمضان المبارک میں تراویح کی ادائیگی بھی مشکل ہوگئی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ گزشتہ چند دنوں میں ایک طرف تو تاجروں پر 10لاکھ جرمانے کا ناجائز قانون بنایاگیا ہے، جس سے رشوت خوری کا نیا کاروبار شروع ہوگیا تو دوسری جانب من پسند افراد کو تمام ایس اوپیز بالائے طاق رکھنے کی کھلی اجازت دی گئی،جس کے باعث عوام کی اکثریت میں بے چینی اور اضطراب کا پیدا ہونے ایک فطری عمل ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت لاک ڈاؤن کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے حل میں ناکام ہوگئی ہے، اب اس طرح کے اقدامات اور فیصلوں سے حکومت اپنا اعتبار مسلسل کھورہی ہے اور عوام کے ذہنوں میں بہت سے سوالات اور شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں جن کودور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ ہجوم کو کم کرنے کے لیے مارکیٹوں کے کھلنے کے ایام اور دورانیہ بڑھایا جائے،سڑکوں اور بازاروں کی مینجمنٹ پولیس اور ٹریفک پولیس سے کروائی جائے۔
