کراچی : عدالت نے گوشت کے لئے لائے جانے والے جانوروں اور قربانی کے جانوروں کی ٹیکس وصولی غیر قانونی قرار دے دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع کونسل کراچی کی جانب سے شہر کے انٹری پوائنٹس پر جانوروں کا ٹیکس وصولی کے خلاف دائر پٹیشن پر عدالت نے محفوظ کیا ہوا فیصلہ سنادیا ہے، ٹھیکیدار کو صرف دودھ دینے والے جانوروں کا ٹیکس لینے کی ہدایت کی ہے،عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے 2019 میں جاری کیا جانے والا شیڈول ریٹ کا گزیٹ بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے ٹھیکیدار کو صرف دودھ دینے والے جانوروں کا 2017 کے شیڈول کے تحت ٹیکس وصولی کی ہدایت کی ہے، عدالت نے دودھ دینے والے جانوروں کا ٹیکس وصولی اور ٹھیکہ دینے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے،عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو معاملے کی شفاف انکوائری کا حکم بھی دیا ہے۔
خیال رہے کہ پٹیشن میں عدالت سے اس ٹیکس کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی،ٹھیکہ تھا ضلع کونسل کی حدود میں دودھ دینے والے جانوروں کا سالانہ ٹیکس اور ہیلتھ کلیرنس سرٹیفکیٹ فیس وصول کرنے کا، جبکہ ٹھیکیدار شہر میں داخل ہونے والے ہر جانور کا ٹیکس وصول کر رہا تھا۔
صرف آٹھ کروڑ روپے سالانہ کے ٹھیکے پر ٹھیکیدار ایک ارب روپے سے بھی زائد کی وصولی کر رہا ہے،چنگیوں پر ہیلتھ کلیرنس سرٹیفکیٹ کے لئے نہ تو کوئی ویٹرنری ڈاکٹر ہے اور نہ ہی جانوروں کو اسپرے کیا جا تا ہے،قربانی کے جانوروں کی ٹیکس وصولی کی شکایات پرگذشتہ سال اینٹی کرپشن ایسٹ زون نے چنگیوں پر کارروائی کرکے ان کو سیل کردیا تھا۔
اینٹی کرپشن نے ضلع کونسل کراچی کے چئیرمن سلمان عبد اللہ مراد، افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا،فائنل چالان میں ضلع کونسل کراچی کے چیرمین سلمان عبداللہ مراد، چیف آفیسر مسرور میمن، اکائونٹس آفیسر، ٹیکسیشن آفیسر، ٹھیکیدار حاجانو خان، اس کے بھائی حاکم جسکانی اور دوسروں کے نام شامل کئے گئے،اینٹی کرپشن نے اس ٹھیکے اور وصولی کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
