English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ بھر کی اسکولز ایسوسی ایشن کا 15جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

القمر

کراچی (رپورٹ: حماد حسین) سندھ بھر کی اسکولز ایسوسی ایشنز نے نجی تعلیمی ادارے کھولنے کے مسائل پر پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا۔

پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسو سی ایشن پسما سندھ ، آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن سندھ اورایسو سی ایشنز آف پرائیویٹ انسٹی ٹیو شنز سندھ کی جانب سے ایک ہی وقت میں سندھ کے تمام شہروں جن میں کراچی ، حیدرآباد، ٹنڈو آلہ یار، بدین، تغل،جام شورو، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، سکھر، گھوٹکی، جیکب آباداورخیر پور اور گھمبٹ میں پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا۔

 کراچی پریس کلب پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسو سی ایشن پسما سندھ کے چیئرمین اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن سندھ کے صدر شرف الزماں نے نجی تعلیمی اداروں کے مسائل پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے15جون سے سندھ بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کردیا اس موقع پرپریس کانفرنس میںوائس چیئرمین غلام ربانی، سید اسرارعلی سیکریٹری جنرل، علی حسن گبول ڈپٹی جنرل سیکریٹری،ممبر سپریم کونسل محمد ذکی،سلمان الطاف،محمد حارث حیدر آباد ڈسٹرکٹ کے عارف شاہ ،مرزا محمود بیگ اورعبدالمجید راجپوت بھی موجود تھے۔

شرف الزماں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان سفید پوش لوگوں کی رمضان اور عید کی خوشیاں خاک میں مل جا ئیں گی، اب ان کی بقاءکا مسئلہ ہے 12 مئی کو قائمہ کمیٹی برائے تعلیم (سندھ) کے ایک اجلاس میں60% فیصد نجی اسکولوں کی بھر پور نمائندگی کرتے ہوئے پسما نے وزیر تعلیم سعید غنی سے کہا تھا کہ نجی تعلیمی ادارے حکومت بھیک یا امداد نہیں مانگ رہے ہیں وہ صرف بینکوں سے بلا سودی قرضے فراہم کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کی مدت 3سال تک ہو انہوں نے کہاکہ جس کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے صاف انکار کر دیا کہ سندھ حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے بجائے نجی تعلیمی ادارے تعلیم کا 70% فی صد بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا ر ہے ہیں اور تعلیمی میدان میں سرکاری اسکولوں سے کہیں بہتر رزلٹ دے رہے ہیں، جس کی مثال یہ ہے کہ 1996 کے بعد سے آج تک کسی بھی سرکاری اسکولز کے طلباءنے کوئی پوزیشن حاصل نہیں کی۔

 شرف الزماں نے مزید کہاکہ یہی نہیں بلکہ ایک اندازے کے مطابق سرکاری اسکولز کے ہرطالب علم پر تقریبا4 ہزار روپے ماہانہ خرچ آتا ہے اس لئے ہم حکومت سندھ کے اس دوہرے معیار کی وجہ سے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں کہ وہ سرکاری اساتذہ کو گھر بیٹھے تنخواہیں ادا کر رہی ہے اور نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔

 انہوں نے مزید  کہاکہ ڈائریریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز جو کہ صرف پرائیویٹ اسکولز کےلئے وجود میں لایا گیا تھا، اس کا کردار بھی اس گھمبیر صورتحال میں مشکوک نظرآتا ہے، ڈائریکٹوریٹ کو چاہئے تھا کہ وہ صوبائی حکومت کو ان نجی اسکولز کے مسائل سے آگاہ کرتا اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لئے اقدامات کرتا مگر افسوس کہ وہ اپنا کردار ادا کرنے میں مسلسل ناکام رہا ہے خدارا ان 60%فیصد نجی تعلیمی اداروں کے تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف کی بھی داد رسی کی جائے، جس طرح حکومت دوسرے اداروں کے لئے ریلیف پیکجز دے رہی ہے،اسی طرح نجی اسکولز کے اسٹاف کے لئے بھی ریلیف پیکج دیا جائے تاکہ سندھ بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی عید کی خوشیاں منا سکیں۔

شرف الزماں کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے نجی اسکولوں کو3سال کے لئے بلا سودی قرضے ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کے رجسٹریشن سرٹیفیکٹ اور ثانوی تعلیمی بورڈ کے الحاق سرٹیفکیٹ کی ضمانت پر فراہم کئے جائیں اگر پرائیویٹ اسکولز کو بینک سے قرضے فراہم نہیں کئے گئے تو نجی تعلیمی ادارے اپنے اساتذہ کو تنخواہ ادا نہیں کر سکیں گے اور اس طرح بیشتر اسکولز کے مالکان اسکول کی بلڈنگ کا کرایہ بھی ادا نہ کرنے کی وجہ سے ابھی سے بند ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

شرف الزماں نے کہاکہ وفاق و صوبائی حکومتوں نے ہمیں یکسر نظر انداز کر دیا ہے اگر حکومت ہمیں قرضے فراہم نہیں کر سکتی تو ہم پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسو سی ایشن، ایسو سی ایشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن مشترکہ طور پر سندھ بھر کے تمام تعلیمی ادارے حکومت کی جانب سے تمام احتیاطی تدابیرکواختیار کرتے ہوئے دو شفٹوں میں کھول دیں گے بچوں کی مجموعی تعداد کو دو حصوں میں تقسیم کر کے پہلی شفٹ صبح 7:30تا 10بجے اور دوسری شفٹ 11بجے سے 1:30تک ہوگی تاکہ طلباءکے درمیان سماجی دوری کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے کسی قسم کی کوئی انتقامی کاروائی کرنے کی کوشش کی یا ریگولرٹی اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی اسکول کو حراساں کرنے کی کوشش کی تو ہم عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے میں حق بجانب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے