English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سہون کے قدیم رہائشی عدم تحفظ کی وجہ سے سخت پریشان ہیں، دیوان رام چند

القمر

سہون (نمائندہ جسارت) ہمیں مختلف حربوں سے دھمکایا اور ڈرایا جارہا ہے پہلے میرے گھر میں ڈکیتی کرائی گئی، جس کی مالیت 50 لاکھ روپے سے زیادہ ہے اور اب ہمارے گھر کے عقب میں خالی پلاٹ پر قبضہ کیا جارہا ہے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے انصاف چاہتا ہوں دیوان رام چند ،سندھ سبیتا کے قدیمی ساہتی شہر اور سہون کے قدیم رہائشی عدم تحفظ کی وجہ سے سخت پریشان ہیں حضرت لعل شہباز قلندر کے عرس میں مہندی کی میزبانی کرنے والے صوفی منت بزرگ دیوان رام چند نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ عدم تحفظ کی وجہ سے ہماری کمیونٹی کے زیادہ لوگ مختلف ادوار میں سندھ چھوڑ کر انڈیا چلے گئے یا پھر ملک کے دوسرے شہروں میں آباد ہوگئے ہم اپنی ماتر بھومی سہون سے محبت کرتے ہیں لعل شہباز قلندر کے عقیدتمند ہیں اور دوسو سال سے مہندی دینے کی رسم ادا کر رہے ہیں اس لیے یہاں سے نہیں جانا چاہتے ہمیں اس محبت کی سزا دی جارہی ہے پہلے میرے گھر میں ڈکیتی کرائی گئی جس کی مالیت 50 لاکھ سے کہیں زیادہ تھی جس میں طلائی زیورات اور دیگر قیمتی چیزیں شامل تھی ان کا آج تک کوئی سوراخ نہیں ملا اور اب ہماری کافی مولچند جہاں سے عرصہ دراز سے حضرت لعل شہباز قلندر کے عرس کے آخری روز پر مہندی نکالی جاتی ہے اس کافی کے بڑے حصے پر با اثر لوگوں نے زبردستی قبضہ جمادیا ہے اور اب میرے ذاتی پلاٹ جوکہ گھر کے عقب میں ہے اس پر بھی ناجائز قبضہ جمانے کے لیے ہمیں مختلف طریقوں سے دھمکایا اور ڈرایا جاتا ہے میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ جس کا میں ووٹر بھی ہوں مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے