واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے وسط مدتی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈٹرمپ کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کر دیا۔ سابق صدر جارج بش نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈونلڈٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ان کے بھائی اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش بھی ٹرمپ کو ووٹ دینے کے حوالے سے مخمصے کا شکار ہوگئے ہیں۔ سابق وزیر خارجہ کولن پاول نے صدرٹرمپ کو پکا جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بار ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو ووٹ دیں گے۔ پاول نے ماضی میں جان مک کین کی جگہ بارک اوباما کو ووٹ دیا تھا۔ سابق صدر بش اور سابق وزیر خارجہ پاول دونوں ہی صدر ٹرمپ کے اقدامات سے نالاں ہیں۔ دوسری جانب پاول کے اعلان پر صدر ٹرمپ نے کولن پاول اور جوبائیڈن دونوں کو مردار قرار دے دیا۔ صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واشنگٹن میں فوج بلائی تھی اور مظاہرین کو کچلنے اور پیچھے دھکیلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ ریپبلکن صدارتی امیدوار بننے کے سابق خواہش مند مٹ رومنی نے بھی دوٹوک اندازمیں کہہ دیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے حامی نہیں۔ مٹ رومنی واحد ری پبلکن سینیٹر ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کے مؤاخذے کے حق میں بھی ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے واشنگٹن میں نسل پرستی کے خلاف ہونے والی مارچ میں بھی شرکت کی تھی۔ ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ صدر ٹرمپ کی حمایت جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ سویلین رہنماؤں سے پہلے ٹرمپ دور کے پہلے وزیر دفاع جیمز میٹس بھی صدر کے خلاف انتہائی سخت کالم لکھ چکے ہیں۔
سرکردہ ریپبلکن رہنمائوں کا ٹرمپ کو ووٹ ہ دین نہ دینے کا اعلان
القمر
