مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی ریاست نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں بیتا عیلیت یہودی کالونی کے ساتھ ہزاروں ایکٹر رقبے پر ایک بڑا صنعتی زون قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ عبرانی اخبار ہارٹز کے مطابق اس صنعتی زون میں 600 ایکٹر رقبہ پانی کے چشموں اور غرب اردن کے شمال وجنوب کے درمیان آمد و رفت کے راستوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اس اراضی میں ایک بڑا حصہ زرعی زمینوں کا بھی شامل ہے، مگر اسے یہودی آباد کاروں کے لیے مکانات اور کارخانوں کے قیام کے لیے غصب کرلیا گیا ہے۔ غصب شدہ اراضی کا بیشتر حصہ وادی فوکین، بتیر اور حوسان قصبوں میں شامل ہے۔ فلسطین میں ماحولیات کے لیے کام کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غرب اردن کے جنوب میں یہ صنعتی زون فلسطینیوں کی قیمتی زرعی اراضی پرقبضے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تباہی کا باعث بنے گا۔ خیال رہے کہ بیتا علیت یہودی کالونی کے لیے پہلے ہی 4 ہزار ایکڑ کا رقبہ غصب کیا گیا ہے۔ اس میں غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم کی اراضی شامل ہے۔ جنوبی علاقوں میں بیت عیلیت سمیت 14 یہودی کالونیاں شامل ہیں۔ خیال رہے کہ اسرائیل آیندہ چندہفتوں میں مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو اپنے ساتھ ملانے کی تیاری بھی کر رہا ہے، جس سے اسرائیل فلسطینی امن معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی کے سلسلے میں ہر قسم کا تعاون روک دیا ہے۔
صہیونی توسیع پسندی کا بڑا منصوبہ منظر عام پر آگیا
القمر
