مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت نے فلسطینیوں کی مقبوضہ زمینوں پر یہودی بستیوں کی تعمیر کو ان کے وجود میں آنے کے بعد قانونی قرار دینے سے متعلق ایک متنازع قانون کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ اسرائیلی ججوں نے اس قانون کو غلط قرار دیا، جس کی مدد سے صہیونی ریاست مقبوضہ مغربی اردن کے علاقے میں سیکڑوں ایکٹر زمین کو اسرائیل کے ریاستی علاقے میں شامل کرنا چاہتی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ اسرائیلی قانون فلسطینی آبادی کے حقوق کی نفی کرتا ہے، اس لیے ریاستی آئین سے متصادم ہے۔ اسرائیلی پارلیمان نے یہ متنازع قانون 2017ء میں منظور کیا تھا۔ اس قانون کے خلاف انسانی حقوق کی اسرائیلی اور فلسطینی تنظیموں نے مقدمات دائر کیے تھے۔ دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو اسرائیل کا حصہ بنانے کے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وہ بدھ کے روز اس حوالے سے یورپی یونین کا واضح پیغام لے کر اسرائیل پہنچے تھے۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے تل ابیب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیلی منصوبے پر جرمنی کو دیانت مندانہ اور سنگین قسم کے تحفظات ہیں۔ ان کا اسرائیلی ہم منصب گبی اشکنازی کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ الحاق کا منصوبہ بین الاقوامی قوانین کے مطابقت نہیں رکھتا۔
اسرائیلی عدالت نے یہودی آبادکاری کے قانون کو غلط قرار دے دیا
القمر
