کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی مخالفت کے باوجود نیپال کی پارلیمان نے متنازع علاقوں پر مشتمل نیا سیاسی نقشہ منظور کرلیا۔ یہ لداخ کے بعد بھارت کے لیے دوسرا بڑا جھٹکا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق پارلیمان نے بدھ کے روز بھارتی سرحد سے متصل 3 متنازع علاقے نیپال کے نقشے میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ نقشے کی تبدیلی کے لیے بل ایوان زیریں میں پیش کیا گیا، جسے ارکان نے بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ اپوزیشن سمیت بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے بھی بل کی حمایت کی۔ نیپال کے نئے سیاسی نقشے میں لیپولیکھ، لمپیادھورا اور کالاپانی کو نیپال کی سرحد کے اندر دکھایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ نیپالی وزیر اعظم کے پی اولی کو اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ خود حکمراں اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کی مخالفت کا سامنا ہے، لیکن ان کے اس قوم پرستانہ کارڈ نے تمام رہنماؤں کو متفق ہونے پر مجبور کردیا اور اب نیپالی صدر کے دستخط کے بعد یہ آئینی ترمیمی بل قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔ اس کے بعد نیپال اپنی تمام سرکاری دستاویزات میں اسی نئے نقشے کو استعمال کرے گا۔ دراصل 6 ماہ قبل بھارت نے اپنا نیا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا، جس میں ریاست جموں و کشمیر کو 2 مرکزی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ اسی نقشے میں لمپیادھورا، کالاپانی اور لیپولیکھ کو بھارت کا حصہ بتایا گیا تھا۔مبصرین کا خیال ہے کہ اس نئی سیاسی پیشرفت سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہوگی۔ بھارت نے اس پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستوا کا کہنا ہے کہ ہم نیپالی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غلط نقشے پیش کرنے سے گریز کرے اور بھارت کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔
نیپال،متنازع علاقوں پر مشتمل نیا نقشہ منظور،بھارت کو بڑا جھٹکا
القمر
