طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں فوج اہم ساحلی شہر سرت کو باغیوں سے چھڑانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ فوج شہر کے کئی نواحی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد مرکز کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس دوران فریقین میں جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بدھ کے روز فوج نے باغیوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی، جب کہ حفتر ملیشیا نے فوج کی پوزیشنوں پر گولے داغے۔ اس لڑائی کے باعث شہریوں نے گھربار چھوڑ کر نقل مکانی شروع کردی ہے۔ جب کہ قومی وفاق حکومت نے پیش قدمی کے لیے فوج کو کمک پہنچا دی ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے ایک مشترکہ بیان میں لیبیا میں جاری لڑائی روکنے اور متحارب فریقین پر جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بیان یورپی یونین کے اعلیٰ نمایندے اور فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین، فرانس، اٹلی اور جرمنی نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ لیبیا میں جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی کوششوں کوآگے بڑھانے میں متحارب فریقین کی مدد کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام فوجی کارروائیوں کو مؤثر اور فوری طور پر روکنے اور مذاکرات میں تعمیری طور پر شمولیت کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی بحران کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ جب کہ روسی صدر ولا دیمیر پیوٹن نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ لیبیا کی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ کریملن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیوٹن اور مرکل نے ٹیلی فونک گفتگو میں لیبیا میں جھڑپوں میں اضافے پر خدشات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
لیبیا،شہریوں نے سرت سے نقل مکانی شروع کردی
القمر
