لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد کئی یورپی ممالک میں بڑے پیمانے پر نسل پرستی اور متعصبانہ رویے کے خلاف احتجاج شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی دارالحکومت لندن کے میئر صادق خان نے بھی سفید فام نسلی امتیاز، غلاموں کی تجارت اور برطانوی سامراج کی یاد تازہ کرنے والے مجسموں کو شہر سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کے بعد برطانوی شہریوں نے بھی سفید فام نسلی امتیاز، غلاموں کی تجارت کی یادگاروں کو ختم کرنے اور مقامات کے نام تبدیل کا مطالبہ کیا ہے، جس پر لندن کے میئر صادق خان نے دارالحکومت کے ایسے مقامات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ نسلی تعصب کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کی جانب سے اتوار کے روز برسٹل میں غلاموں کی تجارت کرنے والی ایڈورڈ کولسٹن کی یادگار کو گرانے بعد کیا ہے۔ دوسری جانب سیاہ فام امریکی کے قتل کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران متعصب رویہ رکھنے والے سفید فام برطانوی شہریوں نے ’’اپنا منہ بند کرو، واپس افریقا جاو‘‘ کا نسل پرستانہ نعرہ لگا دیا۔ یہ مظاہرہ برطانوی شہر ہارٹ فورڈشائر میں اس وقت شروع ہوا جب ہوڈسڈن کلاک ٹاور کے مقام پر سیاہ فام شخص کی امریکی پولیس کے تشدد سے ہلاکت اور نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج جاری تھا کہ اچانک انہیں نسل پرستوں کے بڑے مظاہرے کا سامنا کرنا پڑا جن کی بڑی تعداد سفید فام مردوں پر مشتمل تھی۔ یہ لوگ اپنا منہ بند کرو اور واپس افریقا جاؤ کے نعرے لگا رہے تھے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد برطانیہ میں نسل پرستوں اور تعصب کے مخالفین میں تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق سفید فام نسل پرستوں نے ہوڈسڈن میں جنگ عظیم دوئم کی یادگار کے دفاع میں ریلی نکالی تھی کیوں کہ اتوار کے روز سطی لندن میں ونسٹن چرچل کے مجمسے کو زمیں بوس کردیا گیا تھا۔
برطانیہ ،نسل پرستوں کے مجسموں پر آفت آگئی،ہٹانے کی مہم شروع
القمر
