واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں سفید فام پولیس اہل کار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کے قتل کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج جاری ہے۔ اسی تناظر میں بوسٹن شہر میں مظاہرین نے کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے کا سر اتارپھینکا، جب کہ رچمنڈ میں مظاہرین نے ٹرک کی مدد سے کولمبس کا مجسمہ گرا دیا۔ مظاہرین پولیس کے ہاتھوں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے نتیجے میں نسلی عدم مساوات کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جارج فلوئیڈ کے بھائی فلونائز فلوئیڈ نے امریکی ا یوان نمایندگان کی جوڈیشری کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاہ فام افراد پر پولیس تشدد کو روکیں۔ جوڈیشری کمیٹی پولیس تشدد اور نسلی ناانصافی سے نمٹنے کے لیے نئی قانون سازی پرکام کررہی ہے، جس کا بل متوقع طورپر آیندہ ہفتے پیش کر دیا جائے گا۔ ادھر امریکا میں نسل پرستی کے خلاف برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے اور جارج فلوئیڈ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن، مانچسٹر اور ہل میں جارج فلوئیڈ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مظاہرین نے گھٹنے ٹیک کر 9منٹ تک خاموشی اختیا رکی۔ ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں بھی ہزاروں افراد نے جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا۔ سیاہ فام امریکی کی ہلاکت کے بعد سے نسلی تعصب کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے تحریک میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
امریکی عوام نے کولمبس کا مجسمہ گرادیا دوسرے کا سر اڑادیا
القمر
