English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بابر اعظم کو بااختیار کپتان بنایا جائے، شعیب ملک کا مشورہ

القمر

شعیب ملک نے بابر اعظم کو با اختیار کپتان بنانے کا مشورہ دے دیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں شعیب ملک نے کہا کہ میں بابر اعظم کا پرستار ہوں، ہمارے کلچر میں کئی منفی چیزیں ہوتی ہیں، نوجوان بیٹسمین ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں،وہ اپنی ذمہ داریاں نہیں بھولتے، بہتر یہی ہوتا ہے کہ کسی کے بس میں جو ہواسے بہترین انداز میں سرانجام دے، بابر اعظم میں یہی خوبی موجود ہے، اس لحاظ سے نہ صرف کہ وہ جونیئر کرکٹرز بلکہ تمام کھلاڑیوں کیلیے ایک روشن مثال ہیں۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں بابر اعظم کا نام لیا جائے تو بڑا فخر محسوس ہوتا ہے، ان کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں طویل مدت کے لیے قیادت سونپنا خوش آئند لیکن بہترین نتائج کیلیے بااختیار کپتان بنایا جائے، ایسا ہوا تو وہ ویرات کوہلی کی طرح ایک بڑے قائد ثابت ہو سکتے ہیں،بابر اعظم با اختیار ہوں گے تو کھلاڑیوں کو یقین ہوگا کہ انھیں 1،2میچز کے بعد باہر نہیں کر دیا جائے گا، جواب میں وہ کپتان کو بھرپور سپورٹ فراہم کریں گے،پی سی بی نوجوان بیٹسمین کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے کہ وہ ایک اچھا پول بنائیں اور پاکستان کے لیے فتوحات حاصل کریں۔

آل راؤنڈر نے کہا کہ انگلینڈ کی مثال سامنے ہے، 2015 میں ایون مورگن کو قیادت سونپی گئی تو انھوں نے ورلڈکپ 2019 تک پلیئرز پول کو برقرار رکھنے کا وعدہ لیا، میں دیکھتا رہا ہوں کہ الیکس ہیلز اور جیسن روئے کئی بار اتنے غلط شاٹس کھیل کر آؤٹ ہوتے کہ اس وقت ان کو باہر کرنے کا دل چاہتا لیکن کپتان نے اپنا اعتماد برقرار رکھا، بعد ازاں انہی کھلاڑیوں نے ورلڈ کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ کپتان کو بھی ملنے والے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے، بابر اعظم کی شخصیت ایسی نہیں، مجھے امید ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے، میری خواہش ہے کہ پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل آئے، ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع دیے جائیں۔

ایک سوال پر شعیب نے کہا کہ پی سی بی نے مجھے سینٹرل کنٹریکٹ نہ دے کر بہت اچھا کیا، میرے خیال میں 2 سینئرز کے بجائے ان 4یا 6 جونیئرز کو کنٹریکٹ ملنا چاہئیں جو پاکستان کے لیے طویل عرصے کھیل سکتے ہوں، ہمیں دی جانے والی تنخواہوں کو کسی اچھی جگہ استعمال ہونا چاہیے، اس لیے کنٹریکٹ نہ ملنے پر کوئی افسوس نہیں ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے