English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بیت المقدس میں 1294 یہودی مکان تعمیر کرنے کا اسرائیلی منصوبہ

القمر

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی ریاست کے توسیع پسندانہ منصوبوں کے انکشاف کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق شمال مشرقی بیت المقدس میں صہیونی ریاست نے آدم یہودی کالونی میں 1294 نئے مکانات کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ عبرانی اخبارات کے مطابق آدم یہودی آباد کاری کے اس نئے منصوبے کوآیندہ 3 سال میں مکمل کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ 2018ء میں شمال مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس منصوبے میں اس وقت کے وزیر دفاع آوی گیڈر لائبرمین نے 400 رہایشی فلیٹس کی کمی تھی۔ اس منصوبے کو جمعہ کے روز ملٹری پلاننگ کمیٹی میں پیش کیا گیا۔ منصوبے کے تحت یہودی آباد کاروں کے لیے رہایشی مکانات، کارخانے، بس اسٹینڈ، پیٹرول اسٹیشن اور ایک 3 منزلہ کمرشل پلازہ تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے کے لیے کروڑوں شیکل کی رقم مختص کی گئی ہے۔ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کے نئے تعمیراتی اور استعماری منصوبوں کا مقصد اس علاقے میں قائم کی یہودی کالونیوں کو مکمل کرتے ہوئے وادی اردن کی کالونیوں تک باہم ملانا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی کابینہ آج اتوار کے روز ایک اجلاس میں مقبوضہ وادی جولان میں ٹرمپ کالونی کی باقاعدہ منظوری دینے کا فیصلہ کرے گی۔ اسرائیلی حکومت نے گزشتہ برس مقبوضہ جولان پر صہیونی عمل داری کے اعلان کے بعد وہاں امریکی صدر ٹرمپ سے منسوب ایک بڑی یہودی بستی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے