واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ 2020ء کے صدارتی انتخابات ہار گئے تو پھر کچھ اور کریں گے۔ جمعہ کی شب فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر میں انتخابات میں ناکام رہا تو میں اپنی زندگی کو جاری رکھتے ہوئے دوسرے امور پر توجہ دوں گا، لیکن یہ چیز ملک کے لیے باعث افسوس ہو گی۔ انہوں نے سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے بیانات کہ ’’ٹرمپ نومبر دھاندلی کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر ٹرمپ نے اپنی شکست تسلیم نہ کی تو فوج اسے وائٹ ہاؤس سے نکال باہر کرے گی‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ بائیڈن نے اپنے گھر کے تہ خانے میں اپنے لیے ایک جراثیم سے پاک ماحول بنا رکھا ہے اور یہ وہاں سے باہر نہیں نکلتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشتبہ افراد کو روکنے کے لیے گلے کو مضبوطی سے پکڑنے کو ختم کرنا ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گلے دبوچنے والوں پر پابندی عائد کرنا اچھی چیز ہے۔ کچھ حالات کے لیے ہمیں اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ملک میں پولیس کا مضبوط قانون دیکھنا چاہتا ہوں۔ دوسری جانب امریکا کے سیاسی حلقوں میں اس بارے میں بحث جاری ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نائب صدر کے لیے کس رہنما کا انتخاب کریں گے۔ بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک خاتون کو نامزد کریں گے۔ اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ وہ کسی سیاہ فام خاتون کے نام کا اعلان کریں۔ امریکا کی 250 سالہ تاریخ میں کبھی کوئی خاتون امریکا کی صدر یا نائب صدر منتخب نہیں ہوئی۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے 1984ء میں جیرالڈائن فرویو کو نائب صدارت اور 2016ء میں ہیلری کلنٹن کو صدارت کے لیے نامزد کیا تھا۔ ری پبلکن پارٹی نے 2008ء میں سارہ پالن کو نائب صدارت کا امیدوار بنایا تھا۔ یہ تینوں سفید فام خواتین تھیں۔ اپریل میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی 200 سیاہ فام خواتین سماجی کارکنوں نے جوبائیڈن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ وہ کسی سیاہ فام خاتون کو نائب صدارت کے لیے نامزد کریں۔ مئی میں ان خواتین نے پھر اپنا مطالبہ دہرایا تھا۔
ٹرمپ کو انتخابات میں ناکامی کا خوف ستانے لگا
القمر
