نیویارک/ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) کاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے لیبیا میں اجتماعی قبروں کی دریافت کے بعد جامع اور آزادانہ تحقیقات پر زور دیا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حال ہی میں ان اجتماعی قبروں کی دریافت کی خبر ملنے پر وہ حیران رہ گئے۔ گوتیریس نے لیبیا کے حکام سے کہا ہے کہ وہ تفتیش کے لیے متعلقہ مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے لاشوں اور ان کی باقیات کی شناخت کا عمل مکمل کرانے، موت کی وجوہات کا تعین کرانے اور ان باقیات کو ہلاک شدگان کے لواحقین کے حوالے کیے جانے پر بھی زور دیا۔ جمعرات کے روز طرابلس سے 65کلومیٹر کے فاصلے پر 8 اجتماعی قبریں ملی تھیں۔ اس حوالے سے عالمی برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کا کہنا ہے کہ لیبیا میں عسکری نہیں سیاسی حل کی تلاش کی جانی چاہیے۔ جرمن دارالحکومت برلن میں موجود ابراہیم قالن نے اخباری نمایندوں کو بتایا کہ لیبیا کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں برلن میں اس سے پیشتر ایک کانفرس منعقد ہوئی تھی، تاہم ملیشیا کمانڈر خلیفہ حفتر نے اس سے قبل کے معاہدوں کی طرح یہاں پر طے پانے والے سمجھوتے کی بھی خلاف ورزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی حکومت نے حالیہ ایام میں دوبارہ سے اہم علاقے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں اور یہ کہنا ممکن ہے کہ اس جنگ میں توازن قائم ہوگیا ہے، تا ہم اس مسئلے کا قطعی حل عسکری نہیں، بلکہ سیاسی ہونا چاہیے۔
لیبیا میں اجتماعی قبروں کی تحقیقات کرانے کاعالمی مطالبہ
القمر
