English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر نسل پرستوں کے دفاع پر اتر آئے

القمر

لندن/ پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نسل پرستوں کے مجسمے ہٹائے جانے کے خلاف ڈٹ گئے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ آخری سانس تک لندن میں پارلیمان اسکوائر پر نصب سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے کی حفاظت کریں گے۔ بورس جانسن کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب نسلی امتیاز کے خلاف چلنے والی تحریک کے ذمے داران اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ایسی تمام شخصیات کے مجسمے ہٹا دیے جانے چاہییں، جو ماضی میں سیاہ فام اور دیگر نسلوں کے خلاف امتیازی سلوک میں ملوث رہے ہیں۔ مظاہرین اسے برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خلاف اس تحریک کا فیصلہ کن مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔ مظاہرین نے حال ہی میں لندن کے پارلیمان کے باہر نصب مجسمے کو نقصان پہنچایا تھا اور اس پر ’’چرچل ایک نسل پرست تھا‘‘ کے الفاظ تحریر کر دیے تھے۔ بورس جانسن کا اصرار ہے کہ یہ مجسمہ اپنے مقام پر موجود رہنا چاہیے۔ پیر کے روز برطانوی وزیر اعظم نے ٹیلی گراف اخبار میں ایک مضمون میں لکھا کہ ہمیں ماضی کو دوبارہ تحریر کرنے کے بجائے اپنا حال سدھارنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس نہ ختم ہونے والی بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں کہ کون سی تاریخی یا سیاسی شخصیات ایسی ہیں، جن کے مجسموں کو برقرار رہنا چاہیے۔ بورس جانسن نے کہا کہ چرچل برطانیہ کے قومی ہیرو تھے۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے بلجیم اور برطانیہ میں استبدادی دور کی یاد تازہ کرنے والے مجسموں پر حملوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریہ فرانس کی تاریخ سے کوئی بھی نام نہیں مٹے گا۔ فرانس اپنے مجسموں کو نہیں اکھاڑے گا۔ ماکروں نے الیزے پیلس سے عوام سے خطاب میں کہا ہے کہ فرانس میں انسانوں کے ساتھ ان کے نام یا رنگ کی وجہ سے معاملہ نہیں کیا جاتا۔ ہم نسل پرستی، صیہونی دشمنی اور امتیازیت کو قبول نہیں کر سکتے۔ اس موضوع پر مستحکم فیصلے کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے