بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کے مقابلے میں اس کی جانب سے تیار کیا جانے والا بیڈو نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم (بی این ایس ایس) رواں ماہ آخری سیٹلائٹ خلا میں چھوڑے جانے کے ساتھ مکمل ہوجائے گا۔ جی پی ایس سیٹلائٹس کو لوکیشن ڈیٹا بیمنگ کے لیے اسمارٹ فونز، گاڑیوں کے نیوی گیشن سسٹمز اور اس طرح کے تمام نظاموں میں استعمال کیا جارہا ہے، اور ایسے تمام سیٹلائٹس کو امریکی فضائیہ کنٹرول کرتی ہے، تاہم اب چین دنیا کا دوسرا ملک بننے والا ہے، جو یہ ٹیکنالوجی بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ چین نے 1990ء کی دہائی میں بی این ایس ایس کا خیال پیش کیا تھا، کیوں کہ اس کی فوج امریکی فضائیہ کے تحت چلنے والے جی پی ایس پر انحصار کم کرنا چاہتی تھی۔ 2000ء میں پہلے بیڈو سیٹلائٹس کو لانچ کیا گیا، جن کی کوریج چین تک محدود تھی، مگر 2003ء میں موبائل ڈیوائسز کے استعمال میں اضافے کے بعد چین نے یورپی یونین کے مجوزہ گیلیلو سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم میں شمولیت کی کوشش کی، مگر پھر بیڈو پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اس سے دستبرداری اختیار کرلی۔ آئی فون کے عہد میں دوسری نسل کے بیڈو سیٹلائٹ 2012ء میں آپریشنل ہوئے، جو ایشیا بحرالکاہل خطے کو کور کرتے ہیں۔ چین نے عالمی کوریج کے لیے تیسری نسل کے سیٹلائٹ 2015ء میں خلا میں بھیجے، اب پینتیسواں اور آخری سیٹلائٹ جون میں بھیجا جارہا ہے۔
سٹیلائٹ سسٹم میں چین امریکا کو مات دینے کے قریب
القمر
