مقبوضہ بیت المقدس/ نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونیوں میں بھی انتہا پسند کہلانے والے ایک گروہ ’’ہل ٹاپ یوتھ‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک وڈیو میں مسجد اقصیٰ اور اس کی مغربی دیوار کے نیچے بنائی گئی ایک سرنگ دکھائی گئی ہے، جسے جولائی کے آغاز میں کھول دیا جائے گا۔ ہل ٹاپ یوتھ نے سرنگ کے بارے میں بنائی گئی وڈیو کو اپنی ویب سائٹ پر چند منٹوں کے لیے شائع کرنے کے بعد وہاں سے ہٹا دیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق سرنگ مسجد اقصیٰ کے صحن کے نیچے خاص طور پر مراکشی دروازے، مغربی دیوار، اموی محلات کے علاقے اور مروانی مصلیٰ کے سہ دروازے پر ہے۔ دوسری جانب مغربی کنارے کے بعض علاقوں اور وادی اردن پر قبضے کے لیے اسرائیلی حکومت اپنے منصوبے پر تیزی سے کام کررہی ہے۔ اس کا مقصد ان علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنا ہے۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اس مذموم کوشش کے خلاف قومی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ پیر کے روز حماس رہنما صالح بردویل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم من حیث القوم اس کا مقابلہ کریں گے۔ اسرائیلی منصوبہ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے نتائج میں سے ایک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے سے براء ت کا اعلان ہی قومی یکجہتی تشکیل دے سکتا ہے۔ ادھر رابطہ العالم الاسلامی کے سیکرٹری جنرل اور سابق سعودی وزیر انصاف ڈاکٹر محمد عیسیٰ نے یہود کو مسلمانوں کے بھائی قرار دے دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اتوار کے روز امریکن جوئش کمیٹی کی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی نے یہود اور مسلمانوں کے درمیان مثبت تعلقات قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان دوری کا سبب دین اور سیاست کو آپس میں خلط ملط کرنا ہے۔ خیال رہے کہ یہ بات قرآن وسنت کی تعلیمات کے منافی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جب سے رابطہ العالم الاسلامی کی باگ ڈور سنبھالی ہے، میں نے اس وقت سے اپنی ترجیحات میں اپنے یہودی بہن بھائیوں سے تعلقات کی استواری کو شامل کررکھا ہے۔
یہود نے مسجد اقصیٰ کے نیچے نئی سرنگ کھود دی
القمر
